رسائی کے لنکس

ایران: سخت گیر عالمِ دین اہم مجلس کے سربراہ منتخب


محمد یزدی

محمد یزدی

محمد یزدی کا مقابلہ معتدل نظریات کے حامل ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سے تھا جنہیں یزدی کے 47 ووٹوں کے مقابلے میں 24 ووٹ ملے۔

ایران کے سپریم رہنما کے انتخاب اور اس کی کارکردگی کی نگرانی کرنے والی علما کی کمیٹی 'مجلسِ خبرگانِ رہبری' نے اپنے نئے سربراہ کا انتخاب کرلیا ہے۔

چھیاسی رکنی مجلس کے ارکان نے منگل کو اپنے ایک اجلاس میں 83 سالہ آیت اللہ محمد یزدی کو کثرتِ رائے سے ایک سال کی مدت کے لیے اپنا نیا سربراہ منتخب کیا۔

ایک سخت گیر مذہبی رہنما کی شہرت کے حامل محمد یزدی کو مجلس میں ڈالے گئے 73 ووٹوں میں سے 47 ووٹ ملے۔

ان کا مقابلہ معتدل نظریات کے حامل ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سے تھا جنہوں نے 24 ووٹ حاصل کیے۔ رفسنجانی اس سے قبل 2007ء سے 2011ء تک مجلس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

محمد یزدی آیت اللہ محمد رضا مہدوی کانی کی جگہ مجلسِ خبرگان کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں جو گزشتہ سال اکتوبر میں انتقال کر گئے تھے۔

موجودہ مجلس کی میعاد آئندہ سال فروری میں ختم ہورہی ہے اور محمد یزدی فروری تک اس کے سربراہ رہیں گے جس کے بعد مجلس کی تمام 86 نشستیں براہِ راست عوامی انتخاب کے ذریعے پر کی جائیں گی۔

ایرانی آئین کے تحت 'مجلسِ خبرگانِ رہبری' کے ارکان ایران کے سپریم رہنما کی نامزدگی و برطرفی اور اس کی کارکردگی کی نگرانی پر مامور ہیں۔

مجلس کا رکن منتخب ہونے کے لیے آیت اللہ ہونا شرط ہے جو اسلام کے شیعہ مکتبِ فکر میں اہم ترین مذہبی منصب ہے۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اپنا نیا سربراہ انتخاب ایک ایسے وقت منتخب کیا ہے جب 75 سالہ موجودہ سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی صحت سے متعلق افواہیں گردش میں ہیں۔

مجلس کے نئے سربراہ محمد یزدی 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد ایرانی پارلیمان کے پہلے ڈپٹی اسپیکر تھے جب کہ انہوں نے دس سال تک ایرانی عدلیہ کی سربراہی بھی کی ہے جس سے وہ 1999ء میں سبکدوش ہوگئے تھے۔

محمد یزدی ایرانی نظامِ حکومت میں انتہائی طاقت ور سمجھے جانے والے ادارے 'شوریٰ نگہبان' کے بھی رکن ہیں جو انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی جانچ پڑتال اور پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ قوانین کو رد کرنے کے اختیارات رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG