رسائی کے لنکس

لڑکیوں کے حقوق کی سرگرم کارکن 17 سالہ ملالہ یوسفزئی نے رواں برس امن کا نوبل انعام جیتا ۔ملالہ نوبل انعام پانے والی 95 شخصیات میں سب سے کم عمر ہیں اور نوبل انعام جیتنے والی دنیا کی 16 ویں خاتون ہیں۔

دنیا بھرمیں خواتین کےحقوق، عالمی بہبود کو سمجھنے کے لیے ایک اہم اشارہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھرکی خواتین کی تحریک کے انتھک کاموں سے عالمی سطح پرصنفی مساوات کی راہیں استوار ہوئی ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس خیال سے متفق نظر آتی ہےکہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی کی منازل طےنہیں کرسکتا ہے جب تک اس کی نصف آبادی تعلیم، کام اور فیصلہ سازی کے حق سے محروم ہے۔

رواں برس دنیا کے بیشتر ملکوں میں نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جن میں خواتین کے حقوق کو گھر میں اور گھر سے باہر بھی تسلیم کیا گیا ہے تاہم ،خواتین کو با اختیار بنانے کی کامیابیوں کے باوجود بہت سے ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

صنفی عدم مساوات : خواتین اکثر ملکوں میں مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں مثلاً صحارا افریقہ اورکریبین میں عورتیں 80 فیصد بنیادی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں اسی طرح ایشیا میں 50 فیصد غذا ئی اجناس خواتین خود پیدا کرتی ہیں جبکہ عالمی سطح پرعورتیں دنیا کی غذائی پیداوار کا نصف پیدا کرتی ہیں اور بدلےمیں دنیا کی آمدنی کا صرف 10 فیصد وصول کرتی ہیں اورصرف ایک فیصد پیداواری ذرائع کی مالک ہوتی ہیں۔ یہ صنفی امتیاز خواتین کو زندگی بھر متاثر کرتا ہے اور اکثر غربت کا شکار لوگوں میں عورتیں ہیں ۔

اقوام متحدہ کی ستمبر میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فلمی صنعت بالی وڈ کی فلموں میں 35فیصد خواتین کے کرداروں میں عریانیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ فلمی صنعت میں خواتین پروڈیوسر ،ہدایتکار اور مصنف کا رجحان بہت کم ہے اس کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ میں خواتین کےاہم فلمی کرداروں کا تناسب لگ بھگ 24 فیصد ہے ۔

رواں برس عالمی اقتصادی فورم کے انڈیکس پرآئس لینڈ اور نورڈک مسلسل چھٹے سال صنفی مساوات میں دنیا بھر کے ممالک میں سب سے آگے ہیں جبکہ نکارا گوا اور روانڈا بالترتیب چھٹے اور ساتویں نمبر پر ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی: ۔یورپی یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں خواتین کے خلاف تشددعام ہے اور بہت سی اقسام میں کیا جارہا ہے۔ دنیا بھرمیں ہر 3 میں سے ایک عورت اپنے ساتھی یا خاوند کے ہاتھوں جنسی بد سلوکی اورگھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ 12 کروڑ لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے اور 29 ممالک میں 133ملین لڑکیاں نازک اعضاء کی قطع وبرید کی تکلیف جھیلتی ہیں۔ 700ملین لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کی جاتی ہے۔ جنسی استحصال کے مجموعی اندازے کے مطابق 4.5 ملین متاثرین لڑکیاں اور خواتین ہیں۔ اسی طرح عورتوں کو غیرت کی بنیاد پر قتل کرنے کا رجحان بھی ترقی پزیر ممالک میں عام ہے۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک عمومی خیال یہ بھی ہے کہ خواتین کے حقوق صرف ان ممالک کا مسئلہ ہیں جہاں سخت اسلامی قوانین رائج ہیں جبکہ زیادہ تر افراد سوچتے ہیں کہ موجودہ دور میں اب یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔ لیکن ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسےخواتین کے حقوق کو بہت سے ممالک میں اس طرح تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس کی توقع کی گئی تھی۔

اگرچہ خواتین کے حقوق کا حصول راتوں رات ممکن نہیں ہے تاہم دنیا بھر سے 2014ء کی منتخب صنفی مساوات کی کامیابیاں اورقابل ذکر لمحات درج ذیل ہیں۔

خواتین کی کامیابیوں کا سال

.1 لڑکیوں کے حقوق کی سرگرم کارکن 17 سالہ ملالہ یوسفزئی نے رواں برس امن کا نوبل انعام جیتا۔ ملالہ دنیا کے 95 نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیات میں سب سے کم عمر اور نوبل انعام جیتنے والی دنیا کی 16 ویں خاتون ہیں۔ شدت پسندی کےحملے کے بعد نئی زندگی پانے والی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو رواں برس' سویڈن میں ورلڈ چلڈرن ایواڈ' کے لیے نامزد کیا گیا انھیں ہالینڈ کا 'بچوں کا اعلی ترین ایواڈ ' سے نوازا گیا اسی سال یونیورسٹی آف کنگز کالج ہیلی فیکس نے انھیں 'ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری 'سے نوازا۔

ملالہ یوسفزئی کے علاوہ رواں سال اعلیٰ ترین ایوارڈز اپنے نام کرنے والی خواتین میں کانگو سے تعلق رکھنے والی گائناکالوجسٹ ڈینئس مکویگا کا نام سرفہرست ہے جنھوں نےیورپی یونین کا اعلی ترین ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

ایرانی ریاضی دان مریم مرزا خانی نے اس برس ریاضی کا اعلیٰ ترین ایوارڈ 'فیلڈ میڈل ' جیتا ہے جو میتھمیٹیکس کی فیلڈ میں نوبل انعام تصور کیا جاتا ہے انھیں پیچیدہ جیومیٹری کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

.2 مراکش کی پارلیمنٹ کی طرف سے ضابطہ تعزیرات کے ایک آرٹیکل کو منسوخ کردیا گیا جس کے تحت جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو جاتا تھا۔

.3 تیونس کے آئین نے خواتین کےحقوق پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اسے عرب خطے کا سب سے زیادہ ترقی پسند آئین قرار دیا گیا ہے جس میں مرد اور عورت کو تعصب سے بالاتر ہو کرقانون کی نظر میں ایک جیسےحقوق اور فرائض تقویض کیے گئے ہیں۔

ریاضی دان مریم مرزا خانی

ریاضی دان مریم مرزا خانی

.4 لاطینی امریکہ اور کریبین میں خواتین قیادت میں اضافہ ہوا جہاں چلی کی صدر 'مشعل بیچلیٹ' نے صدارت کی دوسری مدت کا حلف اٹھایا ہے ان کی کابینہ میں وزراء خواتین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پہلی بار سینیٹ کی خاتون لیڈر کے طور پر ازابیل الینڈے کو منتخب کیا گیا ہے۔

.5 بھارتی سپریم کورٹ نے رواں برس ہجڑے کے نام سے پکارے جانے والے افراد کو بھارت کی تیسری جنس کے طور پر تسلیم کر لیا انھیں قانونی طور پر تیسری جنس کا بھارتی شہری تصور کیا جائے گا۔

.6 برطانوی حکومت نے جولائی میں خواتین کے نسوانی اعضاء کی قطع وبرید کےخلاف قوانین مزید سخت کر دیے۔ اس قانون کا اطلاق اب برطانوی شہریوں کےعلاوہ برطانیہ میں رہنے والے دیگر شہریوں پر بھی ہو سکے گا جبکہ ایسے والدین کو سزا ہو سکتی ہے جو اپنی بیٹیوں کے جنسی اعضاء کاٹنے کے عمل کو روکنے میں ناکام ہوں گے۔ برطانیہ میں ہر سال 37 ہزار لڑکیاں ایف جی ایم کا نشانہ بنتی ہیں۔

چلی صدر مشعل بیچلیٹ

چلی صدر مشعل بیچلیٹ

.7 دنیا بھر میں تنازعات کے دوران جنسی تشدد کی روک تھام کے عنوان سےجون میں لندن میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ گلوبل کانفرنس میں سو سے زائد اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیداران اور ماہرین نے شرکت کی اس کانفرنس کی صدارت ہالی ووڈ کی ممتاز اداکارہ انجیلینا جولی اورسابق برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کی۔ تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے خاتمے کے میثاق پر 148ملکوں نے دستخط کیے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

.8 رواں برس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خواتین کی ریکارڈ تعداد نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ سکیورٹی کونسل کی ایک تہائی سے زائد 15 نشستوں پر خواتین سفارت کار منتخب ہوئی ہیں جن کا تعلق ارجنٹائن، اردن، لکسمبرگ اور امریکہ سے ہے۔ اسی طرح ناروے کی میجر جرنل کرسٹن لنڈ وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں قبرص میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

مالاوت پرونا

مالاوت پرونا

.9 بھارت کی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ مالاوت پرونا نے مئی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی 'ماونٹ ایورسٹ' کو سر کیا اور دنیا کی کم عمر ترین خاتون کوہ پیماہ اور ایورسٹ سر کرنے والی کم عمر خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔

.10 ایما واٹسن اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے منتخب ہوئیں ایما واٹسن نے حال ہی میں صنفی مساوات کے حصول کے لیے عالمی یک جہتی مہم 'ہی فار شی' کا آغاز کیا ہے جس میں انھوں نے مساوات کےحصول کے لیے مردوں کو اتحادی بننے کے لیے کہا ہے۔

.11 اقوام متحدہ وومن نے حال ہی میں ٹینیس اسٹار ثانیہ مرزا کو جنوبی ایشیائی خطے کا خیرسگالی سفیر مقرر کیا ہے جو اس خطے میں صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کوششیں کریں گی جبکہ وہ تنظیم کی تاریخ کی پہلی ایشیائی خاتون سفیر بھی ہیں۔

ثانیہ مرزا

ثانیہ مرزا

.12 برطانیہ میں زبردستی شادی پر مجبور کرنا ایک قابل سزا جرم ہوگا 16 جون کو متعارف کرائی جانے والی قانون سازی کے تحت جبری شادی کروانے والے والدین کی زیادہ سے زیادہ سزا 7 برس جیل ہو سکتی ہے۔ دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں ہر 3 میں سے ایک لڑکی 18 سال سے کم عمری میں بیاہ دی جاتی ہے۔

.13 اسکرین پر بھی خواتین کو اس سال اہم کرداروں میں دیکھا گیا اس حوالے سے 2013 کی فلم 'فروزن'میں خواتین کلیدی کردار میں نظر آئیں یہ فلم اینیمیٹڈ فلموں کی تاریخ کی سب سے بڑی فلم بن گئی جبکہ اسی سال کے آخر میں 'مارول اسٹوڈیوز' کی جانب سےخواتین سپر ہیرو کے کردار پر فلم بنانےکا اعلان کیا گیا ہے جس کا نام ' کیپٹن مارول' ہو گا۔

.14 بھارت میں تیزاب حملوں سے متاثرہ پانچ بہادر لڑکیوں نے اسی سال پہلے روپا ڈیزائنر بوتیک کے لیےماڈلنگ کر کےسب کو حیران کر دیا تھا اور ایک بار پھر اکتوبر میں آگرہ میں ایک کیفے شی روز ہینگ آوٹ کھول کر دنیا کے سامنے اپنی بقا کی جدوجہد کی عمدہ مثال قائم کی ہے۔

.15 برطانیہ میں پہلی بار جذباتی بد سلوکی کو ایک قابل سزا جرم بنا دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت نفسیاتی تشدد کو بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔ تشدد آمیز واقعات پر قابو پانے کے لیے 2015ء سے دھمکیوں کے ذریعے ساتھی یا شریک حیات کو قابو میں کرنا ایک قانونی جرم ہو گا جس کی سزا کم از کم پانچ برس قید ہو سکتی ہے۔

2014ء کے بد ترین واقعات

بوکو حرام کے ہاتھوں نا ئیجیرین طالبات کا اغوا: اپریل میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے شمالی نائیجیریا کے ایک قصبے چیبوک پرحملہ کر کے اسکولوں کی 276 طالبات کو اغوا کر لیا جن میں سے 63 طالبات بعد میں ان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں لیکن 200 طالبات تاحال لاپتا ہیں۔ نائیجیریا کی حکومت نے اکتوبر میں تنظیم کے ساتھ معاہدہ کے لیے لڑکیوں کی رہائی کی شرط رکھی تھی لیکن گذشتہ ماہ بوکو حرام نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے مزید لڑکیوں کو اغوا کرنے کا دعویٰ کیا۔

رادھرم کیس بچیوں کے ساتھ ذیادتی کا اسکینڈل : برطانیہ میں شیفیلڈ کے علاقے رادھرم میں کم از کم 1400 بچوں اور بچیوں کو 1997ء سے 2013ء کے درمیانی عرصے میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا رہا، اگست کے مہینے میں رادھرم نامی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اس علاقے کے ذمہ دار اہلکار اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والا سماجی نظام اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کا تعلق زیادہ تر برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی سے تھا جبکہ ایسے واقعات میں لڑکیوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔

ایران میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات : اکتوبر کے مہینے میں ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں نامعلوم افراد نے 17 خواتین پر تیزاب سے حملہ کیا جن میں سے ایک خاتون جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جبکہ دوسری خواتین جھلس کر زخمی ہو گئیں۔ خواتین کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ اگر وہ حجاب کا احترام نہیں کرتی ہیں تو ان پر تیزاب سے حملہ کیا جائے گا تاہم ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے پس پردہ ایران کے ان انتہا پسند عناصر کا ہاتھ ہے جو خواتین کی آزادی کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔

بھارت میں ریپ واقعات کا تسلسل : بھارت میں حال ہی میں ایک 25 سالہ خاتون کو ٹیکسی ڈرائیور نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کی دھمکی دی۔ فنانس کمپنی کی متاثرہ خاتون رات میں دیر سےگھر لوٹتے ہوئے ٹیکسی میں غنودگی کا شکار ہو گئی تھی جہاں ٹیکسی ڈرائیور نے انھیں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں میزرام اور سکم دوسرے اور تیسرے نمبر پر متاثرہ علاقے ہیں جہاں خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں جس کے بعد مدھیہ پردیش کا نمبر آتا ہے۔ یاد رہے کہ 2012ء میں دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی اور موت کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ملک میں سخت قوانین بنائے گئے ہیں لیکن عمومی رائے کے مطابق یہ قوانین واقعات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

غنچہ قوامی

غنچہ قوامی

ایران میں والی بال میچ دیکھنے پرغنچہ قوامی کو سزا : 20جون کو ایران میں مردوں کا والی بال میچ دیکھنے کی کوشش کرنے پر ایرانی نژاد برطانوی شہری غنچہ قوامی اور درجنوں خواتین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایران میں عورتوں کے مردوں کے فٹ بال اور والی بال میچ دیکھنے پر پابندی عائد ہے۔ پچیس سالہ غنچہ قوامی کو 126 دنوں تک جیل میں اور41 دن تک قید تنہائی میں رکھا گیا جبکہ مقدمے کی سماعت سے پہلے غنچہ قوامی نے چودہ روز تک بھوک ہڑتال کی تھی۔ قانون میں گریجوایشن کرنے والی سماجی کارکن غنچہ قوامی کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ بعد میں انھیں ان کی صحت کے مسائل کی وجہ سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG