رسائی کے لنکس

القاعدہ نے دھوکے سے حملے میں شریک کر لیا تھا، گوانتانامو کے قیدی کا عدالت میں دعویٰ

  • خلیل بگھیو

عدالت کی کارروائی کااسکیچ (فائل فوٹو)

عدالت کی کارروائی کااسکیچ (فائل فوٹو)

گوانتانامو کے پہلے قیدی جن پر سویلین عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، اُن کے وکلائے صفائی کا کہنا ہےکہ اُنھیں 1998ء میں مشرقی افریقہ میں دوامریکی سفارتخانوں پربم حملوں کی سازش میں دھوکہ دہی سےشامل کرلیا گیا تھا ۔

وکیل پیٹر کوئیجانو نے منگل کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت کی جیوری کو بتایا کہ القاعدہ کے سرگرم کارکنوں نے چالاکی سے احمد خلفان گیلانی کو پھانس لیا تھا جب کہ اُنھیں اُن کے مجرمانہ ارادوں تک کے بارے میں علم نہیں تھا۔

گیلانی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے سات اگست 1998ء میں تنزانیا اور کینیا میں ہونے والے حملوں کی سازش کی تھی جس میں 224افراد ہلاک ہوئے جن میں 12امریکی شامل تھے۔ استغاثے نے کہا ہے کہ گیلانی نے ٹرک اور پیٹرول ٹینک خریدے تھے جنھیں تنزانیا کے بم حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔

استغاثے نے پیر کو مقدمے میں دلائل نمٹاتے ہوئے گیلانی کو بہت سے لوگوں کا قاتل قرار دیا، جس کے ہاتھوں پر، اُن کے الفاظ میں، سینکڑوں لوگوں کا خون ہے۔ ابھی سرکار کی طرف سے جوابی دلائل باقی ہیں۔

سزا ہونے پر گیلانی کو عمر قید ہو سکتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہےکہ 2004ء میں پاکستان میں پکڑےجانے کے بعد گیلانی کو دو سال تک سی آئی اے نے اپنی تحویل میں رکھا اور تفتیش کی۔ سی آئی اے کی چھان بین کے بعد اُنھیں کیوبا میں گوانتانامو بے کےامریکی قید خانے میں رکھا گیا تھا۔

گیلانی کے وکلاء نے الزام لگایا ہے کہ سی آئی اے کی تحویل کے دوران گیلانی کو اذیت دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG