رسائی کے لنکس

خالد شیخ محمد پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تیاری

  • پیٹر فیڈینسکی
  • ندیم یعقوب

خالد شیخ محمد پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تیاری

خالد شیخ محمد پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تیاری

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانےکے بعد اعلان کیا تھا کہ گوانتانامو بے میں واقع فوجی حراستی مرکز بند کر دیا جائے گا ۔ مگر حال ہی میں امریکی انتظامیہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور اب گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کے ایک سرکردہ رکن خالد شیخ محمد پر گوانتانامو کی ہی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا نہ کہ امریکہ کی سرزمین پر سویلین عدالت میں۔

اس ماہ کے شروع میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا تھا کہ وہ خالد شیخ محمد کے فوجی عدالت میں مقدمے کے خلاف ہیں۔مگر وہ کہتے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے سویلین عدالت میں مقدمے کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے انہیں مجبوراً فوجی عدالت میں مقدمے کی حمایت کرنی پڑی۔

اس سال جنوری میں قانون سازوں نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت گوانتانامو سے قیدیوں کو امریکی سرزمیں پر منتقل کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے فنڈز کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔ ایرک ہولڈر نے یہ کہتے ہوئے اس اقدام کو قبول کیا کیونکہ انتظامیہ مقدمے میں مزید تاخیر کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ گیارہ ستمبر کے متاثرین دس سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت میٕں مقدمہ درحقیقت انصاف کی فراہمی میں تاخیر پیدا کر سکتا ہے۔ امریکہ میں شہری حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم امریکن سول لبرٹیز یونین کی عہدیدار حنا شمسی کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتیں امریکہ کے آئینی تقاضے پورے نہیں کرتیں ۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ثبوتوں کی فراہمی ، کچھ واقعاتی شہادتوں ،سنی سنائی شہادتوں اور جبراً حاصل کئے گئے بیانات کوتحفظ حاصل نہیں اس لئے انہیں کئی وجوہات کی بنا پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

فوجی عدالتوں میں مجرم قرار پائے جانے والوں کو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ فورھم یونیوسٹی سے منسلک ایک ماہر قانون این میری میک ایوائےکہتی ہیں کہ سویلین عدالتوں کے کچھ قانونی تقاضے دہشت گردی کے مقدمات میں لاگو نہیں ہوتے جیسے سپیڈی ٹرائل کے لئے آئینی حق۔

ان کا کا کہنا ہے کہ سویلین مقدمات کے بر عکس فوجہ عدالتوں میں ایسے ثبوت پیش کئے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں ملزمان کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کیسے اکٹھے کئے گئے ہیں تاکہ حساس اداروں کے ذرائع کو تحفظ حاصل رہے۔

این میری کا خیال ہے نیویارک میں دہشت گردی کے مقدمے کی عدالتی کارروائی کئی اور خطرات کو جنم دے سکتی ہے مگر حنا شمسی اس سے اتفاق نہیں کرتیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق کئے بغیر دہشت گردی کے بہت سے مقدمات پرمرکزی عدالتوں میں کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ درحقیقت امریکہ کا عدالتی اور سیکیورٹی نظام ایسے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ کئی مقدمات میں اس کا ثبوت دے چکے ہیں ۔

نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ بھی مقدمات کے دوران حفاظتی انتظامات پر آنے والے اخراجات کی شکایات کر چکے ہیں۔ حنا شمسی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے گوانتانامو کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے امریکی ساکھ کوعالمی سطح پر نقصان کی صورت میں جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ خالد شیخ اور ان کے چار ساتھیوں پر مقدمہ چلانے میں کئی مشکلات آڑے آسکتی ہیں ۔ اٹارنی جنرل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ملزمان فوجی عدالت میں اقبال جرم کرتے ہیں تو واضح نہیں کہ انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG