رسائی کے لنکس

مغرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں، خامنہ ای


فائل

فائل

سپریم رہنما نے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر اتفاق ہوتے ہی عالمی طاقتوں کو اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں اٹھالینی چاہئیں۔

ایران کےسپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مغرب کے ساتھ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کے ساتھ حتمی سمجھوتہ بھی ہوجائے گا۔

جمعرات کو تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم رہنما نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کے نہ تو حق میں ہیں اور نہ اس کے خلاف ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیے جانے والے خطاب میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ چوں کہ ایرانی جوہری پروگرام پر تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان ابھی کچھ طے ہی نہیں پایا ہے لہذا ان کی جانب سے اس کی مخالفت یا حمایت کا سوال بے جا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات طے ہونا ابھی باقی ہیں جنہیں فریقین باہمی مشاورت سے حتمی شکل دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے سے قبل تک فریم ورک معاہدہ نامکمل ہے جس کی پابندی ایران پر لازم نہیں۔

سپریم رہنما نے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر اتفاق ہوتے ہی عالمی طاقتوں کو اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں اٹھالینی چاہئیں۔

خامنہ ای کی جانب سے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں فوراً اٹھانے کا مطالبہ ایرانی حکومت کا بھی موقف ہے جس کا اعادہ صدر حسن روحانی نے بھی کیا ہے۔

جمعرات کو ایران کے 'جوہری ٹیکنالوجی کے قومی دن' کے موقع پر ٹی وی پر اپنے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے تک ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی حتمی معاہدے قبول نہیں کرے گا۔

گزشتہ ہفتے امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی پر مشتمل 'پی 5+1' گروپ اور ایرانی حکومت کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت فریقین نے 30 جون تک حتمی معاہدے کی تفصیلات طے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ پہلا باقاعدہ ردِ عمل ہے جنہیں ایران کے سپریم رہنما ہونے کے ناتے اسلامی جمہوریہ میں تمام اہم معاملات میں حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے۔

جمعے کو اپنے خطاب میں سپریم رہنما خامنہ ای نے واضح کیا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ جاری مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور ہر اس سمجھوتے کو قبول کرنے پر تیار ہیں جس میں ایران کے وقار اور عزت کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے فریم ورک معاہدے پر اتفاقِ رائے کے فوراً بعد ایک 'فیکٹ شیٹ' جاری کرنے کے عمل کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے "امریکہ کے شیطانی عزائم" کا مظہر قرار دیا۔

مذکورہ 'فیکٹ شیٹ' میں اوباما انتظامیہ نے امریکی نکتۂ نظر کے مطابق طے پانے والے سمجھوتے کی تشریح اور وضاحت کی تھی جس پر ایرانی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG