رسائی کے لنکس

پاکستانیوں کے لیے بھی امریکی ویزے پر پابندی لگائیں: عمران خان


عمران خان (فائل فوٹو)

انھوں نے تعلیم یافتہ اور ہنرمند پاکستانی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بہتر معاشی مستقبل کے لیے امریکہ جانے کے ارادے ترک کریں اور اس کی بجائے پاکستان کی تعمیر پر توجہ دیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن معطل کیے جانے کے بعد پاکستان میں حزب مخالف کے ایک سرکردہ راہنما عمران خان نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانیوں کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی لگائیں۔

امریکہ کی متنازع پابندی فی الوقت ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے لیے ہے۔

اتوار کو وسطی شہر ساہیوال میں اپنی جماعت "پاکستان تحریک انصاف" کے ایک جلسے سے خطاب میں عمران خان نے اس پابندی کو مسلمان مخالف قرار دیتے ہوئے ایران کی تعریف کی کہ جس نے ردعمل کے طور پر امریکیوں کے ایران میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ "میں آج اپنے ہم وطنوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں دعا کرتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے لیے بھی ویزے پر پابندی لگا دیں۔" ان کے خیال میں اس طرح کے اقدام سے قابل اور ماہر افراد کے پاکستان چھوڑ کر جانے سے بچا جا سکتا ہے۔

انھوں نے تعلیم یافتہ اور ہنرمند پاکستانی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بہتر معاشی مستقبل کے لیے امریکہ جانے کے ارادے کو ترک کریں اور اس کی بجائے پاکستان کی تعمیر پر توجہ دیں۔

عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ "اور اگر جب امریکہ ہمیں یہ بتائے گا کہ وہ ہمارے لیے بھی ویزوں پر پابندی لگا رہا ہے تو پھر ہم بھی، ایران کی طرح، انھیں (امریکہ کو) بتائیں گے کہ ہم بھی امریکیوں کے لیے ویزے بند کر رہے ہیں۔"

عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اس وقت قومی اسمبلی میں تیسری بڑی سیاسی قوت ہے جب کہ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ برسراقتدار ہے۔

تاحال پاکستان کی حکومت کی طرف سے مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ کی پابندی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستانی عہدیداران یہ امید کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی زیر صدارت اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں عمومی طور پر عدم اطمینان دیکھا جاتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی طرف سے مبینہ طور پر افغان اور بھارت مخالف عسکریت پسند گروپوں کی حمایت اور اپنی سرزمین میں پناہ دیا جانا بتائی جاتی ہے۔

اتوار کو وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف ریئنس پریئبس نے یہ عندیہ دیا تھا کہ پاکستان بھی امریکی امیگریشن کی پابندی کے شکار ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔

سی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "آپ دیگر ممالک کا ذکر بھی کر سکتے ہیں جن میں ایسے ہی مسائل ہیں جیسے کہ پاکستان اور دوسرے۔۔۔شاید ہمیں اس (پابندی) کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔"

XS
SM
MD
LG