رسائی کے لنکس

کراچی کے نجی اسکول بھی 'بھتہ خوری' کی زد میں


ایک ماہ قبل، بلدیہ ٹاوٴن کے ایک نجی اسکول پر دستی بم حملہ ہوا، جس میں اسکول کے پرنسپل بھتہ نہ دینے کی پاداش میں، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اسکول کے 6 بچے شدید زخمی ہوئے

روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی، ایک مدت سے دہشتگردی کی زد میں رہا ہے۔ وہاں امن و امان کی صورتحال بھی کشیدہ رہتی چلی آ رہی ہے۔ پہلے تو شہر کے صرف تاجروں اور دکانداروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہوا کرتی تھیں، مگر بتایا جاتا ہے کہ اب تعلیمی طبقہ بھی محفوظ نہیں رہا۔

کراچی کے نجی اسکولوں کے مالکان کو شکایت ہے کہ آئے دِن بھتے کے مطالبے والی پرچیاں اور دھمکی آمیز پیغامات موصول ہورہے ہیں، جس کے باعث وہ سخت پریشان ہیں، جب کہ اسکول کے اساتذہ سمیت والدین اور بچوں میں بھی خوف کے آثار نمایاں ہیں۔

یوں تو شہر کے متعدد نجی اسکولوں سے اب تک کئی بار بھتہ مانگا جا چکا ہے، وہیں کراچی اورنگی ٹاون، سائٹ ایریا اور بلدیہ ٹاون سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں مبینہ طور پر بھتہ مافیا سب سے زیادہ سرگرم بتایا جاتا ہے۔

بلدیہ ٹاون کے نجی اسکول کے ایک مالک نے، نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر، ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’ہمیں ایک ماہ قبل کئی لاکھ روپے کی بھتے کی پرچی موصول ہوئی، جس کے لئے ہم نے پولیس انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مگر، بتایا گیا کہ ہر اسکول کو خصوصی سکیورٹی فراہم کرنا قانونی اداروں کیلئے مشکل ہے‘۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’اس مسئلے سے بلدیہ ٹاون کا پورا علاقہ متاثر ہے۔ کئی اسکولوں کو بھتے کی پرچیاں مل چکی ہیں۔ کئی اسکول مالکان نے تو چھپ چھپا کر مجبوراً ادائیگی بھی کردی ہے، کیونکہ ان کے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘۔

اُن کے بقول، اِس طرح کے واقعات سے سب سے زیادہ بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ والدین میں خوف پیدا ہوجاتا ہے تو وہ بچوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں جس سے ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کئی ماہ سےعلاقے کے متعدد اسکولوں میں بھتے کی ہرچیاں موصول ہونے سے چھوٹے بچوں کے ذہن بھی سخت متاثر ہو رہے ہیں۔ بقول اُن کے، وہ جب سنتے ہیں کہ بھتے کی پرچی آئی ہے، تو ان کے ذہنوں میں بھی ایسے جرائم کا ایک نقشہ ابھرتا ہے، جو اُ کی صحتمند پرورش کے لیے نقصان دہ امر ہے‘۔

پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے ترجمان، خالد شاہ نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کراچی میں کئی اسکول ایسے ہیں جہاں اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ تاہم، مکمل اعداد و شمار بتانا مشکل ہے۔

ادھر، کئی ایک نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی جانب سے خوف کا یہ عالم ہے کہ بہت سے اسکول اس عنوان پر بات کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔

خالد شاہ نے کہا کہ اگر شہر میں یہی سلسلہ جاری رہا، تو جو اسکول چھوٹے پیمانے پر کم فیس میں مکمل تعلیم فراہم کر رہے ہیں وہ بند ہونے پر مجبور ہوں گے؛ یا پھر اسکولوں کی فیسیں بڑھادیں گے، جس سے بچوں کے والدین پر بوجھ بڑھ جائے گا۔‘

واضح رہے کہ کراچی میں ایک ماہ قبل بلدیہ ٹاوٴن کے ایک نجی اسکول پر دستی بم حملہ ہوا تھا جس میں اسکول کے پرنسپل بھتہ نہ دینے کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اسکول کے 6 بچے شدید زخمی ہوئے۔

اِسی طرح، دو ماہ قبل اورنگی ٹاوٴن کے علاقے میں، نجی اسکول کو بھتہ نہ دینے پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس سے اسکول کی ملازمہ زخمی ہوگئی تھیں۔

بتایا جاتا ہے کہ کراچی کے نجی اسکولوں سے لاکھوں روپے بھتہ لیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ادارے تاحال جرائم پیشہ افراد اور بھتہ خوروں سے نمٹنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔

ایک اندازے کے مطابق، کراچی میں رجسٹرڈ نجی اسکولوں کی تعداد 15،000 کے لگ بھگ ہے، جن میں پرائمری، لوئر سیکنڈری، ہائی سیکنڈری اسکول شامل ہیں، جبکہ ان گنت اسکول ایسے بھی ہیں جو باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

پاکستان میں جہاں سرکاری تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، وہیں پرائیوٹ سطح پر قدرے بہتر تعلیم دینے والے نجی اسکولوں سے بھتے کی وصولی اور جرائم پیشہ افراد کی دھمکیاں اور تشدد کی کاروائیاں، شہر میں تعلیم کے مقدس پیشے کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
XS
SM
MD
LG