رسائی کے لنکس

آہ! خیام سرحدی بھی رخصت ہوئے


آہ! خیام سرحدی بھی رخصت ہوئے

آہ! خیام سرحدی بھی رخصت ہوئے

پاکستان میں حالیہ برسوں تک کوئی فلم اکیڈمی یا حرف عام میں کہا جائے تو اداکاری کے اسرار و رموز سیکھانے والا کوئی ادارہ نہیں تھا اس لئے ماضی کے جتنے بھی فنکار تھے انہیں فنی صلاحیتیں عطیہ خداوندی کے طور پر ملیں۔ ان میں سے ایک خیام سرحدی بھی تھے۔صد افسوس کہ وہ آج ہم میں نہیں ۔ وہ جمعرات کو 57سال کی عمر میں لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ انہیں آج لاہور کے علاقے ڈیفنس میں سپرد خاک کردیا گیا۔

خیام سرحدی نے تھیٹر سے فنی کام کا آغاز کیا ، فلموں میں بھی طبع آزمائی کی مگر بھرپور شہرت انہیں ٹی وی ڈراموں سے ملی۔ انہوں نے سو سے زیادہ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ کمرشل فلموں یعنی ٹی وی اشتہارات میں بھی کام کیا۔ انتقال سے کچھ پہلے ہی ان کا ایک کمرشل ٹی وی پر دکھایا جارہا تھا جو غالباً ان کا آخری کمرشل تھا۔جو ڈرامہ ان کے فنی سفر کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا وہ میری ذات ذرہ بے نشاں تھا۔ یہ ڈرامہ نجی ٹی وی سے حال ہی میں پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں غلام گردش، غریب شہر،خواب عذاب، ستم ، نیلے ہاتھ، من چلے کا سودا اور ہر فن مولاان کے مشہور ڈرامے تھے۔

خیام سرحدی نے دوشادیاں کی تھیں۔انہوں نے چاربیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازاگیا۔

خیام سرحدی کا تعلق ادبی اور فنکار گھرانے سے تھا۔وہ فلمساز ،ڈائریکٹر اور مصنف ضیاء سرحدی کے بیٹے تھے۔

ان کی نماز جنازہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ادا کی گئی جس میں فلم ا سٹیج اور ٹیلی ویڑن کے کئی فنکاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

XS
SM
MD
LG