رسائی کے لنکس

'کیمر روج' کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے کا آغاز


بقید حیات چار اہم کیمرروج رہنماؤں کی فائل فوٹو

بقید حیات چار اہم کیمرروج رہنماؤں کی فائل فوٹو

ایک طویل عرصہ کے انتظار کے بعد بالآخر 'کیمر روج' کے بقیدِ حیات اہم اعلیٰ رہنماؤں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں مقدمہ کی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

کمبوڈیا میں جاری مقدمہ کی سماعت اقوامِ متحدہ کا حمایت یافتہ جنگی جرائم کا ٹریبیونل کر رہا ہے جس کی تشکیل کا مقصد 'کیمر روج' کی جانب سے 1970ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کمبوڈیا پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نشانہ بننے والوں کی دادرسی کرنا ہے۔

پیر کے روز مقدمہ کی کارروائی کے پہلے روز 500 سے زائد متاثرین کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی سماعت کے لیے مقدمہ کے چاروں عمر رسیدہ ملزمان کو بغیر ہتھکڑیوں کے ایک پردے کے پیچھے بٹھایا گیا تھا۔

ملزمان میں 'کیمر روج' کے ریاستی سربراہ 79 سالہ خیو سمفان، تنظیم کے سرکردہ نظریاتی رہنما 84 سالہ نون چی، 85 سالہ سابق وزیرِ خارجہ اینگ سیری اور ان کی 79 سالہ اہلیہ اور سابق وزیر برائے معاشرتی امور اینگ تھیرتھ شامل ہیں۔ چاروں ملزمان نے خود پر عائد کردہ جنگی جرائم، نسل کشی، مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تشدد کے ارتکاب سے متعلق الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ 'کیمر روج' کے سربراہ پول پاٹ کا 1998ء میں انتقال ہوگیا تھا۔

آئندہ چار روز تک مقدمہ کی کارروائی دفتری امور تک محدود رہے گی جبکہ شواہد اور گواہوں کی پیشی جیسے بنیادی معالات میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ امکان ہے کہ مقدمہ میں سینکڑوں گواہ پیش ہوں گے اور اس کی کارروائی کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے جس کے باعث یہ خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ آیا عمر رسیدہ ملزمان کی زندگی میں ہی مقدمہ کا کوئی فیصلہ ہوپائے گا یا نہیں۔

اس سے قبل 'کیمر روج' کے خلاف چلنے والے واحد مقدمے میں عدالت نے تنظیم کے مرکزی قید اور عقوبت خانے کے نگران کینگ جیک ایو المعروف ڈچ کو الزامات ثابت ہوجانے پر 35 برس قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں کم کرکے 19 برس کردیا گیا تھا۔

خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ 'کیمر روج' کی حکومت کے دوران تشدد اور کام کی زیادتی سے لگ بھگ 20 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG