رسائی کے لنکس

خضدار میں دو طلباء کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بدھ کے روز بلوچستان کے ضلع خضدار اور دوسرے ملحقہ اضلاع میں بلوچ قوم پرست تنظیموں کی کال پر ایک احتجاجی ہڑتال کی گئی اور اکثر علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے ۔ یہ ہڑتال منگل کو رات گئے بلو چ سٹوڈنٹس آرگنا ئزیشن آزاد گروپ نامی ایک طلبا تنظیم کے زیر اہتمام ہو نے والے ثقافتی اور موسیقی کی تقریب پر دستی بم سے کیے گئے حملے میں دو طالب علموں کی ہلاکت پر کی گئی ۔اس واقعہ میں 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد بدھ کو خضدار، قلات ، مستونگ ، نو شکی ، خاران اور دلبدین سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جب کہ خضدار میں ایک شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیااور کو ئٹہ کر اچی شاہر اہ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا گیا ۔ضلعی پو لیس افسر عبد العزیز کُرد کا کہنا ہے کہ دستی بم کے حملے کے سلسلے میں اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے ۔

کسی شخص یا گروہ نے طالب علموں کی یونیورسٹی میں ہونے والی تقریب پر حملے کی ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی ہے ۔ خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان میں پچھلے چند سالوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوالیکن حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت نے امن وامان کی صورت حال کو بہتر کرنے اور صوبے کی بلوچ قوم پرست جماعتوں کے دیرینہ مطالبات کو حل کرنے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات کیے ہیں ۔ ان میں وزیر اعظم یوسف گیلانی کی طرف سے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے اعلان کردہ مراعات بھی شامل ہیں جن کا مقصد صوبے کے وسائل پر مقامی لوگوں کے کنڑول کو یقینی بنانا اور بڑے ترقیاتی منصوبوں میں اُنھیں روزگار مہیا کرنے میں ترجیح دینا شامل ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ ہفتو ں میں صوبے میں تشدد کے واقعات میں خاصی کمی آئی ہے لیکن بلوچ آبادی والے علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

XS
SM
MD
LG