رسائی کے لنکس

وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے چار ٹھکانے اور خودکش حملہ آوروں کی ایک تربیت گاہ کو تباہ کر دیا گیا۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے کم ازکم 31 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے چار ٹھکانے اور خودکش حملہ آوروں کی ایک تربیت گاہ کو تباہ کر دیا گیا۔

فضائی کارروائی سے مرنے والوں میں متعدد خودکش حملہ آور بھی بتائے جاتے ہیں۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف "ضرب عضب" کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کی جس میں 1200 سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

حکام کے مطابق اس کارروائی سے فرار ہوکر شدت پسندوں کے خیبر ایجنسی میں بھی روپوش ہونے کی اطلاعات پر گزشتہ سال اکتوبر میں "خیبر ون" کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا جس میں اب تک درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے ملکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے کے بعد سے فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں دی جائے گی۔

دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد پر بھی گزشتہ ماہ حکومت نے چھ سال سے عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک سات مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں اور ان کے معاونین کے خلاف بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کارروائیاں کر رہے ہیں۔

حکام نے اتوار کو بتایا کہ ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران خیبر ایجنسی سے کم ازکم دو سو افغان باشندوں کو حراست میں لیا جو غیر قانونی طور پر علاقے میں رہائش پذیر تھے۔

گزشتہ تین دہائیوں سے تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم ہیں جن میں سے حکام کے بقول لگ بھگ 17 لاکھ کا باقاعدہ اندراج کیا گیا اور انھیں ملک میں اس سال 31 دسمبر تک رہنے کی اجازت ہے جب کہ بقیہ غیر قانونی طور پر بغیر دستاویزات کے رہ رہے ہیں۔

پشاور اسکول پر حملے کے بعد صوبائی حکومت نے مطالبہ کیا تھا کہ خیبر پختونخواہ سے افغان پناہ گزینوں کو فوری افغانستان واپس بھیج دیا جائے لیکن مرکزی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق واپسی کو مقررہ مدت میں واپسی کو یقینی بنایا جائے گا جب کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG