رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں حکومت کے حامی مزید چھ رضاکاروں کی لاشیں برآمد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ان افراد کو کالعدم تنظیم لشکر اسلام سے وابستہ ایک شدت پسند گروپ نے اغوا کیا تھا جس کے ایک ترجمان نے مقامی صحافیوں کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے حکومت کے حامی مزید چھ امن رضاکاروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ اتوار کو شدت پسندوں نے طالبان مخالف امن لشکر سے وابستہ 11 رضا کاروں کو خیبر ایجنسی سے اُس وقت اغواء کیا جب وہ وادی تیراہ کی طرف جا رہا تھے۔

ان افراد میں پانچ کی لاشیں پیر کو جب کہ باقی چھ کی بدھ کو تحصیل باڑہ کے علاقے قمبر خیل سے برآمد ہوئیں۔

قبائلی ذرائع کے مطابق ان افراد کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تنظیم لشکر اسلام سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا، جس کے ایک ترجمان نے مقامی صحافیوں کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پیش آنے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

مختلف قبائلی علاقوں میں حکومت کے حامی قبائلیوں نے امن لشکر تشکیل دے رکھے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں طالبان سے نمٹنے کے علاوہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں متعدد شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں جن کے خلاف گزشتہ سال اکتوبر میں فوج نے بھرپور کارروائی شروع کی تھی اور رواں سال جولائی میں حکام نے بتایا تھا کہ یہاں شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔

تاہم ان شدت پسندوں تنظیموں کے روپوش ہونے والے عناصر اب بھی تشدد پر مبنی اکا دکا کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی ایک اور قبائلی علاقے باجوڑ میں تواتر کے ساتھ حکومت کے حامی قبائلی رہنماؤں کو بم حملوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں مختلف واقعات میں کم ازکم چار رہنما مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG