رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: انسدادِ پولیو مہم سے وابستہ 11 مغوی رہا

  • شمیم شاہد

حکام کے مطابق قبائلی عمائدین کے نمائندہ وفد نے اغوا کاروں سے رابطہ کرکے ان افراد کی رہائی کو یقینی بنایا۔ مقامی ذرائع نے بھی اساتذہ سمیت تمام 11 افراد کی بحفاظت رہائی کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے میں سرگرم شدت پسندوں نے چار اساتذہ سمیت اُن 11 افراد کو رہا کر دیا ہے جنھیں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے اغوا کر لیا گیا تھا۔

پاک افغان سرحد سے ملحقہ خیبر ایجنسی میں قائم مقامی اسکول سے تعلق رکھنے والے اِن افراد کو جمعرات کو اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیم اسکول سے روانہ ہو چکی تھی۔

قبائلی انتظامیہ میں شامل حکام نے بتایا کہ اغوا کاروں کو گمان گزرا کہ یہ افراد انسدادِ پولیو مہم کا براہ راست حصہ ہیں، اور اس ہی بنا پر وہ اُنھیں اپنے ساتھ بظاہر خیبر ایجنسی کے اُس علاقے میں لے گئے جہاں کالعدم تنظیم لشکرِ اسلام کا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق قبائلی عمائدین کے نمائندہ وفد نے اغوا کاروں سے رابطہ کرکے ان افراد کی رہائی کو یقینی بنایا۔ مقامی ذرائع نے بھی اساتذہ سمیت تمام 11 افراد کی بحفاظت رہائی کی تصدیق کی ہے۔

بعض قبائلی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے رہائی سے قبل ان افراد سے عہد لیا کہ وہ کسی بھی حیثیت میں انسدادِ پولیو مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اطلاعات کے مطابق یہ افراد مہم میں براہ راست شامل نہیں تھے، مگر پولیو سے متعلق آگاہی پھیلا رہے تھے۔

قبائلی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک یہ تاثر بھی ہے کہ انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی اس بیماری سے بچاؤ کی ویکسین غیر اسلامی ہے جب کہ اس مہم کی آڑ میں مغربی قوتیں علاقے میں جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

گزشتہ برس کے اواخر میں انسدادِ پولیو مہم کو اُس وقت شدید دھچکا لگا جب ملک کے مختلف شہروں میں محکمہِ صحت کی ٹیموں میں شامل کارکنوں اور ان کی حفاظت پر معمور سکیورٹی اہلکاروں کو مہلک حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ دسمبر 2012ء کے بعد سے ایسی کارروائیوں میں خواتین کارکنوں سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
وزیرِ مملکت سائرہ افضل تارڑ

وزیرِ مملکت سائرہ افضل تارڑ

انسدادِ پولیو سے متعلق ٹیموں کو لاحق خطرات کے پیش نظر حکام نے ماضی کے برعکس ملک گیر مہم کے بجائے زمینی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقائی سطح پر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک ملک میں 64 نئے پولیو کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں سے دو تہائی سے زائد کا تعلق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔

نائجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں مسلسل کوششوں کے باوجود پولیو وائرس پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
XS
SM
MD
LG