رسائی کے لنکس

یہ دھماکا ایسے وقت ہوا جب حکومت نے طالبان کی جانب سے ایک مہینے کی جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پیر کی صبح سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کے قافلے کے قریب دھماکے میں کم از کم دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

قبائلی انتظامیہ میں شامل عہدیداروں کے مطابق ایف سی کی دو گاڑیاں لنڈی کوتل سے جمرود جا رہی تھیں کہ شادوخیل کے علاقے میں دیسی ساخت کے بم سے اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔
حکام اور مقامی قبائلیوں کے مطابق ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

یہ دھماکا ایسے وقت ہوا جب حکومت نے طالبان کی جانب سے ایک مہینے کی جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حالیہ ہفتوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور چند روز قبل اس علاقے میں انسداد پولیو کی ٹیموں کی حفاظت پر مامور خاصا دار فورس کے اہلکاروں کو بم حملوں سے نشانہ بیان گیا جس میں کم ازکم 11 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

خیبر ایجنسی کی سرحد افغانستان سے بھی ملتی ہے اور پاکستان کے راستے نیٹو افواج کی رسد بھی اس ہی قبائلی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے۔

اس قبائلی علاقے کی دو افتادہ وادی تیراہ میں اب بھی جنگجو کی مبینہ پناہ گاہیں موجود ہیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کارروائی کی۔
XS
SM
MD
LG