رسائی کے لنکس

چکدرہ پل کی مرمت ، لاکھوں افرادسے زمینی رابطہ بحال

  • شمیم شاہد

سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے

سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے

حکام نے بتایا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے مرکزی چکدرہ پل کو منگل کے روزچھوٹی گاڑیوں کے کھول دیا گیا ۔ 28 جولائی کو شدید سیلاب سے دریائے سوات پر چکدرہ کے مقام قائم دونوں اہم پل تباہ ہوگئے تھے جس سے لوئراور اپردیر کے اضلاع کے علاوہ چترال ، باجوڑ اور سوات کی تحصیل کے بعض علاقوں کا پشاور ،مردان اور ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ مکمل طور پرمنقطع ہو گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے بریگیڈئر سعید اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس پل سے چھوٹی مسافر گاڑیاں بھی گزرسکیں گی۔

حکام نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ چکدرہ پل کے ذریعے چھوٹی گاڑیوں کی آمد رفت سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک امداد کی فراہمی میں تیزی آئے گی، اس سے قبل ان علاقوں میں متاثرین کو صرف ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہنگامی امداد فراہم کی جارہی تھی۔

دریں اثناء صوبائی وزیرحاجی ہدایت اللہ نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ خیبر پختون خوا ہ میں سیلاب سے لگ بھگ سات لاکھ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اُنھوں نے بتایا کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں لوگوں کی گزربسر کا دارومدار صرف مال مویشوں سے حاصل ہونے والی آمد ن پر ہے ۔

صوبائی وزیر کے بقول اتنی بڑی تعداد میں مویشیوں کی ہلاکت سے دودھ ناپید جب کہ گوشت کی قلت کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

حکام کا ماننا ہے کہ سیلاب سے انتظامی ڈھانچے ، زراعت ، آبپاشی اور دیگر شعبوں کے درہم برہم ہونے سے آئندہ چند سالوں تک صوبے کے زرعی اور معاشی شعبوں پر انتہائی برا اثر ہوگا۔

XS
SM
MD
LG