رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: دو سکیورٹی اہلکار اور 12 جنگجو ہلاک

  • شمیم شاہد

پاکستانی سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)

پاکستانی سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)

شلوبر کے علاوہ ملک دین خیل اور کوہی کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائی جاری رکھی جس میں اسے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل باڑہ کے علاقے اکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے دستے عسکریت پسندوں کی تلاش میں مصروف تھے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے ان پر حملہ کر دیا۔

تحصیل باڑہ کے ہی علاقے شلوبر میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک دستے کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا جس سے ایک اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

حکام نے بتایا کہ شلوبر کے علاوہ ملک دین خیل اور کوہی کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائی جاری رکھی جس میں اسے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس کارروائی میں حکام نے 12 جنگجوؤں کو ہلاک اور ان کے زیر استعمال دو ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

علاقے میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کے باعث غیر جانبدار ذرائع سے یہاں ہونے والے جانی نقصانات کی تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

پشاور سے ملحقہ قبائلی و نیم قبائلی علاقوں میں موجود مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف رواں ماہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک درجنوں مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ادھر نوشہرہ میں ایک روز قبل کاکا صاحب کی درگاہ پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوگئی ہے جب کہ اسپتال میں زیر علاج آٹھ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تاحال تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے حکومت کو عسکریت پسندوں کے خلاف کوششوں کو منطقی انجام تک لے جانے سے نہیں روک سکتے۔

ایک سرکاری بیان میں صدر زرداری کا کہنا تھا کہ شدت پسند معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر دنیا کو اپنا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔
XS
SM
MD
LG