رسائی کے لنکس

سوال یہ ہے کہ خسرہ کے خلاف مہم چار سال تک کیوں نہیں چلائی گئی اور جب خسرہ نے موت کی شکل میں رواں سال کے پہلے مہینے میں ہی سر اٹھا لیا تھا تو تب فوراً ویکسین کیوں نہیں خریدی گئی؟

میں نے 2011ء میں موت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ پنجاب میں ڈینگی وائرس ایک وباء کی طرح پھیل رہا تھا اور میں اپنے ٹی وی چینل کے لیے اس کی کوریج کر رہی تھی۔ سوچتی تھی مجھے تو کبھی ڈینگی نہیں ہوسکتا مگر اسی اثناء میں میں خود بھی اس کا شکار ہوگئی اور 15 دن اسپتال میں گزارے۔

ڈاکٹروں کے مطابق میں ان خوش قسمت افراد میں سے تھی جنہیں خدا نے دوسری زندگی دی تھی۔ میں جانتی ہوں کہ اس بیماری کی تکلیف کیا ہے اور کیسے موت آپ کو اپنے سامنے بانہیں پھیلائے نظر آتی ہے۔ اس برس صوبے میں تقریباً ہر گھر سےایک دو مریض سامنے آرہے تھے بعض اوقات تو پورا پورا خاندان اس وائرس کا شکار ہوا۔ اسپتالوں میں تِل دھرنے کی جگھ نہ بچی تھی۔

اس وباء نے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 300 سے زائد افراد کی جان لی جبکہ ہزاروں کو متاثر کیا جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ تھے۔ صوبہ میں ڈینگی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ صوبائی حکومت کی نا اہلی اور وقت سے پہلے وائرس کی روک تھام میں نامناسب اقدامات اور بری کارکردگی تھی۔ جس کے بعد انسانی جان تو گئی ہی مگر اس موذی وائرس سے چھٹکارا پانے کے لیے جو بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان بلوائی گئیں ان پر کروڑوں روپے کا خرچہ الگ سے ہوا۔ ویسے جب یہ ٹیمیں آئیں اور ان کے بتائے طریقوں پر عمل کیا گیا تو ان دنوں میں صرف سرکاری اسپتالوں سے ہم روزانہ کی دس سے زیادہ اموات رپورٹ کیا کرتے تھے۔ یہ شرح بین الاقوامی ٹیموں کے آنے سے پہلے کی شرح سے کہیں زیادہ تھی۔

ڈینگی سے ابھی پوری طرح جان نہیں چھوٹی تھی کھ 2012 ء میں لاہور میں قائم امراض ِدل کے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں ادویات کے زہریلے ہونے کا قصہ سامنے آگیا جو وہاں زیر ِعلاج دو سو سے زائد افراد کو نگل گیا۔ جبکہ 1000 سے زائد مریض اس سے بری طرح متاثر ہوئے۔ اس میں بھی اسپتال انتظامیہ ذمہ دار تھی جس نے ادویات خریدنے سے پہلے جانچ پڑتال میں آلکسی دکھائی۔


اب 2013 میں ایک مرتبہ پھرپاکستان خاص طور پر پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں موت خسرہ کی صورت میں اپنے پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ اس بار اس کا شکار بہت ہی چھوٹے اور معصوم بچے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوبہ میں خسرہ سے بچاؤ کی آخری مہم 2008 میں چلائی گئی تھی جبکہ اس برس خسرہ کے کچھ کیسز سامنے آنے کے فوراً بعد ہی حکومت کو مہم شروع کر دینی چاہئیے تھی جو نہیں کی گئی۔ جب پانی سر سے گزر گیا تو حکومت ِپنجاب کو خیال آیا کہ اسے مہم شروع کرنا ہے۔

​عالمی ادارہ صحت کے مطابق رواں برس خسرہ کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ 2011 ء میں اس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 4000، 2012ء میں 14000 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی کے مطابق پنجاب میں تین کروڑ بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کی ضرورت تھی جبکہ ویکسین صرف 33 لاکھ بچوں کو ہی مہیا کی گئی جبکہ باقی بچے اب تک اس سے محروم ہیں۔ ڈاکٹر سلمان کا کہنا ہے کہ صوبے کے باقی بچوں کے لیے ویکسین موجود ہی نہیں اب جب مزید ویکسین خریدی گئی ہے تو امید ہے کہ وہ جولائی کے مہینے تک پہنچ تو جائے گی مگر شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہو۔ سوال یہ ہے کہ خسرہ کے خلاف مہم چار سال تک کیوں نہیں چلائی گئی اور جب خسرہ نے موت کی شکل میں رواں سال کے پہلے مہینے میں ہی سر اٹھا لیا تھا تو تب فوراً ویکسین کیوں نہیں خریدی گئی؟


ڈاکٹر سلمان کاظمی کا کہنا ہے کہ اس سب کے ذمہ دار سیکرٹری صحت پنجاب، ڈائریکٹر صحت اور ایکسپینڈڈ پروگرام فار امیونائزیشن (ای پی آئی) کا شعبہ ہے کیونکہ ویکسین خریدنا اور مہم چلانا ان کی ذمہ داری تھی۔ دوسری طرف دائریکٹر صحت پنجاب ڈاکٹر تنویر احمد میڈیا پر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ صوبہ کے حساس اضلاع میں خسرہ سے بچاؤ کی مہم شروع کر دی گئی ہے لیکن اب بھی 40 ٪ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈینگی کے بعد اب خسرہ پنجاب میں وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب تک پنجاب بھر میں تقریباً 15000 بچے اس سے متاثر ہوئے جن میں سے 8000 کا تعلق لاہور شہر سے ہے جبکہ یہ موذی مرض اب تک 150 معصوم بچوں کی جان لے چکا ہے جن میں سے 80 بچے لاہور کے تھے۔ ان بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا تھا اگر پنجاب حکومت بر وقت قدم اٹھاتی اورانتظامات کر لیتی مگر شاید محکمہ ِ بہبود آبادی اور محکمہ ِصحت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا چکا ہے کیونکہ گذشتہ دور حکومت میں صوبہ ِپنجاب میں محکمہ ِصحت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔ تو ممکن ہے کہ انہوں نے سوچا ہو کہ اپنی نہ سہی محکمہ ِبہبود ِآبادی کی کارکردگی کو ہی (آبادی کو اسی طرح موت کے منہ میں جھونک کر) بہتر بنایا جائے۔
XS
SM
MD
LG