رسائی کے لنکس

جنرل کیانی کی صدر زرداری سے ملاقات


جنرل کیانی کی صدر زرداری سے ملاقات (فائل فوٹو)

جنرل کیانی کی صدر زرداری سے ملاقات (فائل فوٹو)

صدر زرداری اورعسکری قیادت نےسکیورٹی کی تازہ ترین صورت حال پر بات چیت کی

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر آصف علی زرداری سے ہفتہ کی شام ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ صدر زرداری اور عسکری قیادت نے سکیورٹی کی تازہ ترین صورت حال پر بات چیت کی۔ مقامی میڈیا نے صدارتی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ملاقات جنرل کیانی کی خواہش پر ہوئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں سلامتی کے امور کے علاوہ امریکی حکام کو لکھے گئے متنازع ’میمو‘ یا مراسلے کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔

نجی ٹی وی چینل ’ڈان‘ نے اپنی ایک خبر میں ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر سے ملاقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اس انٹرویو پر تحفظات کا اظہار کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ممیو کے معاملے پر عسکری قیادت نے اپنے بیانات حکومت کی منظوری کے بغیر جمع کرائے تھے۔

ڈان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آرمی چیف نے صدر زرداری سے درخواست کی ہے کہ وزیراعظم سے کہیں کہ وہ اپنا یہ بیان واپس لے لیں۔

حالیہ دنوں میں عسکری اور فوجی قیادت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب فوج نے ایک بیان میں متنبہ کیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے فوجی قیادت پر آئین کی خلاف ورزی کے الزام کے انتہائی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

فوجی قیادت کا یہ بیان وزیراعظم گیلانی کے ایک چینی اخبار کو دیئے گئے اس انٹرویو کے بعد آیا تھا جس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت میمو اسکینڈل مقدمے میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے اپنے بیانات حلفی حکومت کی منظوری کے بغیر ہی داخل کیے تھے جو ’’غیر آئینی اور غیرقانونی‘‘ اقدام تھا۔

لیکن فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ممیو اسکینڈل سے متعلق مقدمے میں فوجی قیادت کو فریق بنایا گیا تھا اور قوائد و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے بیانات حلفی وزارت دفاع کو بجھوائے گئے تھے تاکہ انھیں اٹارنی جنرل کے توسط سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا جائے۔

فوجی قیادت کے بیانات حلفی حکومت کی منظوری کے بغیر براہ راست سپریم کورٹ کو بھیجنے کی پاداش میں وزیراعظم گیلانی نے سیکرٹری دفاع خالد نعیم لودھی برطرف کر دیا تھا جس کے بعد تناؤ میں مزید شدت آ گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG