رسائی کے لنکس

مغوی امریکی شہری کی نئی ویڈیو جاری، رہائی کے لیے اقدامات کی اپیل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی مغوی شہری نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر صدر براک اوباما سے درخواست کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے مذاکرات کریں

پاکستان سے اغوا ہونے والے معمر امریکی شہری نے ایک بار پھر صدر براک اوباما سے اپنی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

وارن وائن سٹیئن کو اگست 2011 میں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد ازاں القاعدہ نے دعوی کیا تھا کہ یہ امریکی شہری اُس کے قبضے میں ہے۔

جمعرات کو مختلف ذرائع ابلاغ کو موصول ہونے والی 13 منٹ دورانیے کی وڈیو میں 72 سالہ مغوی بہت پژمردہ دکھائی دے رہے ہیں اور نحیف آواز میں انھوں نے شکوہ کیا کہ انھیں محسوسں ہوتا ہے کہ امریکی حکومت انھیں بھول گئی ہے۔

’’میں 72 سال سے زیادہ کا ہو گیا ہوں، میری صحت اچھی نہیں، مجھے عارضہ قلب اور سانس کی شدید بیماری لاحق ہے۔ مجھے میرے خاندان سے علیحدہ کر دیا گیا ہے میں نے اپنی ستر سالہ بیوی، دو بیٹیوں، دو نواسوں، اپنے داماد اور خاندان میں آنے والے نئے مہمان کو نہیں دیکھا۔‘‘

وڈیو پیغام میں وائن سٹیئن کا کہنا تھا کہ انھوں نے تیس سال سے زائد عرصے تک اپنے ملک کی خدمت کی۔

اُنھوں نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر صدر براک اوباما سے درخواست کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے مذاکرات کریں۔

اس وڈیو کے ساتھ ایک تحریر بھی ذرائع ابلاغ کو موصول ہوئی جس پر وائن سٹیئن کا پیغام اور تین اکتوبر 2013ء کی تاریخ درج تھی۔

اغوا کے بعد گزشتہ سال ستمبر میں وائن سٹیئن کے دو وڈیو پیغام سامنے آئے تھے۔ گزشتہ پیغامات میں انھوں نے یہودی برداری اور خصوصاً اسرائیل کے وزیراعظم سے اپنی رہائی کے لیے کوشش کرنے کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک یہودی کے طور پر دوسرے یہودی سے مدد کے لیے درخواست کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو ان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

القاعدہ نے وائن سٹیئن کی رہائی کے بدلے مسلم ممالک پر فضائی حملے بند کرنے، امریکہ کی زیرحراست القاعدہ اور طالبان سے منسلک لوگوں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وائن سٹیئن پاکستان میں ایک امریکی ترقیاتی کمپنی سے وابستہ تھے اور اپنا کام ختم کرنے کے بعد انھیں کچھ دنوں میں وطن واپس جانا تھا کہ انھیں اغوا کر لیا گیا۔

ان کے اہل خانہ کی طرف سے بھی متعدد بار اغوا کاروں سے انسانی ہمدردی اور وائن سٹیئن کی خرابی صحت کی بنیاد پر ان کی رہائی کی اپیل کی جا چکی ہے۔

فوری طور پر امریکی حکام کی طرف سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG