رسائی کے لنکس

تین نوجوان لاپتا، اسرائیل کا حماس پر اغوا کا الزام


فائل

فائل

نیتن یاہو کے بقول، ’جمعرات کو تین اسرائیلی نوجوانوں کو حماس کے دہشت گردوں نے اغوا کیا، ہمیں اِس حقیقت کا علم ہے۔ اِن نوجوانوں کو اغوا کیا گیا اور اغوا کی یہ کارروائی حماس کے ارکان نے کی۔ حماس کے انکار سے یہ حقیقت بدل نہیں جاتی‘

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اغوا ہونے والے تین نوجوانوں کا الزام حماس پر لگایا ہے، اور ہیبرون کے قریب 80 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے، جہاں یہ نوجوان لاپتا ہوئے تھے۔

رات کو مارے جانے والے چھاپوں کے دوران زیادہ تر حماس کے ارکان گرفتار کیے گئے۔

اتوار کے روز، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اغوا کا الزام حماس پر عائد کیا۔

نیتن یاہو کے بقول، ’جمعرات کو تین اسرائیلی نوجوانوں کو حماس کے دہشت گردوں نے اغوا کیا، ہمیں اِس حقیقت کا علم ہے۔ اِن نوجوانوں کو اغوا کیا گیا اور اغوا کی یہ کارروائی حماس کے ارکان نے کی۔ حماس کے انکار سے یہ حقیقت بدل نہیں جاتی‘۔

مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اِن نوجوانوں کا لاپتا ہونا حال ہی میں تشکیل دی گئی حماس اور فلسطینی اتحاد کی نئی حکومت کا ثمر ہے، جسے اسرائیل ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، اور فتح۔

تاہم، فلسطینی ترجمان نے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر نکتہ چینی کی، جو، بقول ترجمان، فلسطینیوں کو دی جانے والی ’مشترکہ سزا‘ ہے، جس میں ’صوبہ ہیبرون کا محاصرہ‘ شامل ہے۔

فلسطینی ترجمان، احاب بسیزو نے کہا ہے کہ یہ تین نوجوان مغربی کنارے کے علاقے سے لاپتا ہوئے ہیں، جس کا کنٹرول اسرائیلی اور فلسطینی اتھارٹی کے حوالے ہے، اور یہ کہ ان نوجوانوں کی تلاش کے کام کے لیے اسرائیل سے رابطہ جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اغوا کے اس معاملے کو ’قبیح دہشت گرد حرکت‘ قرار دیتے ہوئے، تینوں نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ کئی باتیں حماس کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اُنھوں نے ، اس طرف دھیان مبذول کرایا کہ ماضی کی اغوا کی وارداتوں میں بھی وہی عناصر ملوث رہے ہیں۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیلی نوجوانوں کو، جن میں سے ایک امریکی پاسپورٹ کا حامل ہے، جمعرات کے دِن اغوا کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG