رسائی کے لنکس

بائرون گارزن نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ میں اسے ہر رات اس تکلیف دہ عمل سے گزرتا دیکھتا تھا اور پھر میں نے ایک فیصلہ کیا۔

اس سال کرسمس کے موقع پر ایک امریکی نوجوان نے اپنی منگیتر کو اپنا دل ہی نہیں بلکہ گردہ بھی دیا ہے۔

نیویارک کی رہائشی 27 سالہ راکیل گومیز ایک جینیاتی بیماری کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، جو بعد میں گردوں کی بیماری کا سبب بن گئی اور پچھلے دو سالوں سے مس گومیز شدید بیمار رہنے لگی تھی۔

ستمبر 2014ء سے اسے مستقل ڈائلیسیز کی ضرورت تھی۔ اسے ہر روز رات کو 10 گھنٹوں کے لیے مشین کی ٹیوب کو اپنے پیٹ سے منسلک کرنا ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے اب وہ اپنے منگیتر کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے باہر نہیں جا سکتی تھی اس کی زندگی اس تکلیف دہ عمل سے شدید متاثر ہو رہی تھی۔

اگرچہ مس گومیز کے منگیتر 29 سالہ بائرون گارزن اس غیر یقینی صورت حال سے خوفزدہ نہیں تھے، انھوں نے پچھلے سال کرسمس کے موقع پر اپنی منگیتر کو شادی کا پیغام دیا تھا۔

لیکن وہ دونوں جانتے تھے کہ معمول کی زندگی گزارنے کے لیے راکیل کو گردے کے عطیہ کی ضرورت ہے۔

مس گومیز پہلے سے ڈونر فہرست میں موجود تھی لیکن نیویارک میں گردے کے عطیہ کے لیے اوسطً انتظار کی مدت پانچ سے دس برس کے درمیان ہے جبکہ، اس کے والد بھی گردے کے مرض میں مبتلا ہیں اور چھ برس سے عطیے کا انتظار کر رہے ہیں۔

مس گومیز کی والدہ اور بہنوں نے اسے عطیہ کی پیشکش کی تھی لیکن ان کا خون کا گروپ آپس میں میچ نہیں کر سکا تھا۔

بائرون گارزن نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ میں اسے ہر رات اس تکلیف دہ عمل سے گزرتا دیکھتا تھا اور پھر میں نے ایک فیصلہ کیا۔

مسٹر بائرون کو اپنے تمام ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹنگ کے بعد پتا چلا کہ وہ راکیل گومیز کے لیے ایک اچھے ڈونر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کا گروپ او ہے اور وہ کسی بھی شخص کے لیے ایک اچھے عطیہ دہندہ بن سکتے ہیں۔

اور جیسے ہی انھیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ مس گومیز جلد ہی صحت یاب ہو سکتی ہیں انھوں نے ستمبر 2016ء میں اپنی شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں مین ہیٹن نیویارک کے ماؤنٹ سانائی اسپتال میں راکیل گومیز اور ان کے منگیتر دونوں آپریشن سے پہلے ایک ہی کمرے کے دو بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپریشن کے بعد بھی دونوں نے صحت یابی کے لیے ایک ساتھ اسپتال میں وقت گزارا۔

مس گومیز نے کہا کہ وہ بائرون کو کہتی ہیں کہ وہ ایک حقیقی ہیرو ہیں۔

ماؤنٹ سانائی اسپتال کی سرجن اسکاٹ ایمز جنھوں نے پیوند کاری کا کامیاب آپریشن کیا کہا کہ زندہ عطیہ دہندگان سے گردوں کا عطیہ مریض کے لیے طویل مدت کی کامیابی کے امکانات پیدا کرتا ہے اور سرجیکل تکنیک میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ اب عطیہ دہندگان کی جلد صحت یابی کے امکانات زیادہ بہتر ہیں۔

اگرچہ بائرون گارزن ابھی پوری طرح سے صحت یاب نہیں ہوئے ہیں لیکن، انھوں نے فٹ بال کھیلنا شروع کر دی ہے اور جلد ہی اپنی شادی کی تیاریاں شروع کرنا چاہتے ہیں۔

بائرون گارزن نے ذرائع کو بتایا کہ اس کرسمس کے موقع پر شاید وہ اپنی منگیتر کو کوئی بڑا تحفہ نا دے سکیں کیونکہ وہ کرسمس سے پہلے ہی اپنا سب سے قیمتی تحفہ مس گومیز کے حوالے کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG