رسائی کے لنکس

کراچی: عید سے قبل بچوں کی 'عید'


گرمیوں کی چھٹیاں اور رمضان المبارک میں رات گئے تک تفریح کے مواقع گویا بچوں کیلئے عید سے پہلے ہی عید ہو گئی ہے۔

جھولے، جمپنگ کیسل ،اونٹ اور گھوڑے کی سواری اور رنگ برنگی قمقموں سے سجی گاڑیوں کی سواریاں اگر بچوں کو تفریح کیلئے یہ سب چیزیں ایک ہی جگہ مل جائیں تو سمجھو ان کی تو جیسے عید ہی ہوگئی۔

جی ہاں۔۔۔ کراچی کے بچوں کی تو ماہ رمضان میں عید سے قبل ہی عید ہو گئی ہے وہ ایسے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک کی راتوں میں اونٹ والے گھوڑے والے، جھولے والے اور رنگ برنگی قمقموں والی گاڑیوں والوں نے بچوں کی تفریح کیلئے شہر کی مختلف علاقوں کی گلیوں کا رخ کرلیا۔

کراچی کے قدیم علاقے سمجھےجانےوالے' پاکستان چوک' پر بھی ایسا ہی ایک منظر رمضان کی راتوں میں شہر کو ایک رونق بخش رہاہے۔

کراچی: رات گئے تک جھولوں میں بیٹھنے کیلئے بڑی تعداد میں بچے والدین کے ساتھ آتے ہیں

کراچی: رات گئے تک جھولوں میں بیٹھنے کیلئے بڑی تعداد میں بچے والدین کے ساتھ آتے ہیں

علاقے کی گلیوں میں اونٹ اور گھوڑوں کی سواری اور جھولے لینے اور رنگ برنگی گاڑیوں میں بیٹھنے کیلئے بچوں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ علاقے بھر کے بچے رات گئے تک او نٹوں اور گھوڑوں کی سواری سے لطف انداز ہوتے رہتے ہیں۔

گرمیوں کی چھٹیاں اور رمضان المبارک میں رات گئے تک تفریح کے مواقع گویا بچوں کیلئے عید سے پہلے ہی عید ہو گئی ہے۔

کراچی: بچے جھولے میں بیٹھے ہیں

کراچی: بچے جھولے میں بیٹھے ہیں

یہ منظر دیکھ کر کسی میلے کا گمان ہونے لگتا ہے ہر جھولے، اونٹ اور گھوڑے پر بچوں کا رش ہی رش ہر کوئی اپنی باری آنے کیلئے بےتاب، یہی نہیں بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی اس میلے میں برابر کے شریک ہو رہے ہیں۔

کراچی: بچوں کی تفریح کیلئے چھوٹی ٹرین اور رنگ برنگی قمقموں والی گاڑیاں بھی علاقے میں موجود ہیں

کراچی: بچوں کی تفریح کیلئے چھوٹی ٹرین اور رنگ برنگی قمقموں والی گاڑیاں بھی علاقے میں موجود ہیں

اور بچوں کو تفریح اور خوش دیکھ کر گویا جیسے وہ خود بھی پھولے نہ سما رہے ہوں، ایک خاتون نے نمائندہ سے گفتگو میں کہا کہ، ’ہمارے بچے روز یہاں آنے کی ضد کرتے ہیں تو مجبورا ان کو ساتھ لےکر آنا پڑتا ہے جب تک اونٹ کی سواری اور جھولے نا لے لیں ان کی ضد ختم ہی نہیں ہوتی.۔

شہر کے ساحلی علاقے کلفٹن میں شہریوں کو اونٹ اور گھوڑوں کی سواری کی تفریح دینے والے بھی رمضان المبارک میں ساحلی علاقے سے شہری علاقوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک میں یہ اونٹ والے گھوڑے والے اور مختلف چھوٹے بڑے جھولوں والے بچوں کو تفریح فراہم کرکے روزگار حاصل کرتے ہیں۔

عثمان بھی اپنا اونٹ لے کر شہر کے مختلف حصوں میں جاتا ہے۔ وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے گفتگو میں عثمان کا کہنا تھا کہ، ’پورا سال کلفٹن پر ہی اپنا اونٹ چلاتا ہوں مگر جب رمضان آتے ہیں تو کلفٹن میں گھومنے پھرنے آنے والے کم ہو جاتے ہیں‘۔

جس سے ہمارا دھندہ رک جاتا ہے، ’مگر شہر میں آکر ہمیں روزانہ کی رُوکھی سُوکھی مل ہی جاتی ہے۔ بچے اونٹ کو دیکھ کر اس پر بیٹھتے ہیں یہ ہمارے لئے بھی ایک فاءدہ مند ہے‘۔

ملک کے اہم شہر کراچی میں ایک جانب امن و امان کی بے یقینی فضا میں جہاں یہ اونٹ اور جھولے والے بچوں کو تفریح فراہم کرکے روزگار حاصل کررہے ہیں تو وہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ "روشنیوں کا شہر" کہلانے والے کراچی کی روشنیاں ایک بار پھر لوٹ آئیں ہوں۔

XS
SM
MD
LG