رسائی کے لنکس

طالبان مخالف دانشوروں پر حملے اعتدال پسند حلقوں کی تشویش

  • شمیم شاہد

طالبان مخالف دانشوروں پر حملے اعتدال پسند حلقوں کی تشویش

طالبان مخالف دانشوروں پر حملے اعتدال پسند حلقوں کی تشویش

صوبہ خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے والے دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے قتل اور اُن کے اغواء سے نہ صرف شعبہ تدریس سے وابستہ اعتدال پسند افراد میں خوف و ہراس پیدا ہوا ہے بلکہ انتہا پسندی کے خلاف جاری کوششوں کو بھی دھچکا لگنے کا خدشہ ہے ۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور

ایک روز قبل مردان میں حکومت کے حامی اور طالبان مخالف دانشور ڈاکٹر محمد فاروق کو مسلح افراد نے ان کے کلینک کے اندر محافظ سمیت قتل کر دیا جب کہ گذشتہ مہینے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کو نامعلوم افراد نے یونیورسٹی سے ہی اغواء کیا جنھیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے ۔

ڈیڑھ سال قبل کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر لطف اللہ کاکا خیل کو عسکریت پسندوں نے اغواء کیا تھا جن کی بازیابی تقریباََ ایک سال بعد ممکن ہوئی تھی۔ اسی طرح چند سال قبل دہشت گردی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دینے والے معروف عالم دین مولانا سنجان کو بھی نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کرد یا تھا۔

ان تمام واقعات بالخصوص ڈاکٹر محمد فاروق کے حالیہ قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی رخشندہ ناز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ” دہشت گردی کے خلاف یہاں چلنے والی تحریک کو اس سے شدید دھچکا پہنچا ہے، ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہیئے کہ یہ کب تک ہوتا رہے گا کہ وہ لوگ جو دہشت گردی کے خلا ف لڑ رہے ہیں وہی زیادہ مر رہے ہیں سوچنے والی بات ہے “۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خیبر پختون خواہ کے عوام حالت جنگ میں ہیں اور انفرادی طور پر ہر فرد کی حفاظت کرنا مشکل کام ہے۔

صوبے کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد اور دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل امن تحریک کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والے افراد پر حملے پورے معاشرے کے لیے افسوس ناک ہیں۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ مشکل صورت حال کے باوجود وہ ملک کے مفاد میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کوششیں جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG