رسائی کے لنکس

استغاثے کا استدلال ہے کہ فوج کے اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز نے 11مارچ کو علی الصبح دو دیہاتوں پر حملہ کیا، جن واقعات میں 16 دیہاتی فوت ہوئے

امریکی فوج اُس امریکی فوجی کے خلاف موت کی سزا کی سفارش کرنے والی ہے، جِس پر الزام ہے کہ اُس نےرواں سال کے آغاز میں شوٹنگ کےدو واقعات میں 16افغان دیہاتیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

استغاثے کا استدلال ہے کہ فوج کے اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز نے 11مارچ کو علی الصبح دو دیہاتوں پر حملہ کیا۔

وکلا نے بتایا کہ وہ جنوبی افغانستان میں اپنے دور افتادہ واقع اڈے سے پیدل روانہ ہوکر ایک قریبی گاؤں گیا اور وہاں کے باسیوں پر گولیاں چلادیں اور فوجی اڈے کی طرف واپس آیا۔ ایک بار پھر وہ اڈے سےپیدل چل کردوسرے گاؤں گیا جہاں اُس نے مزید افراد کو ہلاک کیا، جب کہ مارے جانے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔

بیلز نومبر میں ریاست واشنگٹن میں واقع ایک فوجی کمرہٴ عدالت کے سامنے پیش ہوا۔

استغاثے کے الزام کے مطابق، گولیاں چلاتے وقت وہ صحیح الدماغ، ہوش و ہواس اور آپے میں تھا۔ اُن کے وکیلوں نے بتایا ہے کہ اُس کے بعد اُسے پسِ صدمہ ذہنی و جسمانی دباؤ (پی ٹی ایس ٹی) کی بیماری لاحق ہوگئی۔

بیلز 11برس تک فوج میں رہ چکا ہے۔

جب وہ ابھی فوج میں تعینات تھا، اُن پر قتل عمد کی 16، اقدام قتل کی چھ، حملہ آور ہونے کی سات، منشیات کے استعمال کی دو اور شراب استعمال کے ایک الزام کی دفعات عائد کی گئی تھیں۔

اُن کے کورٹ مارشل کی تاریخ کا ابھی تعین نہیں ہوا۔

امریکی فوج نے پانچ دہائیوں کے دوران کسی فوجی کو موت کی سزا نہیں دی۔

امریکی افواج حملوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کر چکی ہے۔

اُس وقت بیلز چوتھی بار جنگ میں تعینات تھا، جب کہ اُس سے قبل وہ تین بار عراق میں خدمات انجام دے چکا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، عراق میں تعیناتی کے دوران اُسے دماغی چوٹیں آئی تھیں۔
XS
SM
MD
LG