رسائی کے لنکس

جمعے کے روز لندن کی ایک عدالت کی جانب سے 42 سالہ مسز تانیہ کلیرنس پر کم سن بچوں کے تہرے قتل کا الزام عائد کیا گیا

لندن کے ایک مکان سے منگل کی شب تین کم سن بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔ تانیہ کلیرنس نامی خاتون کو ان کے تین معذور بچوں کے قتل کے شبے میں اُسی روز جائے وقوع سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جمعے کے روز لندن کی ایک عدالت کی جانب سے 42 سالہ مسز کلیرنس پر کم سن بچوں کے تہرے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقامی روزنامہ ’ایوننگ اسٹینڈرڈ‘ کے مطابق، جس وقت تانیہ کو بچوں کے قتل کا الزام عائد کرنے کے لیے عدالت میں لایا گیا تو مسز کلیرنس اپنے شوہر گیری کلیرنس جو کے سانحہ کے وقت شہر سے باہر تھے پر نظر پڑتے ہی بری طرح رو پڑیں۔ جبکہ، ان کے شوہر جو اس وقت عوامی گیلری میں موجو تھے، ان کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ شدت جذبات سے کانپ رہے تھے۔

ومبلڈن مجسٹریٹ کورٹ میں سماعت کے دوران بینچ فیونا ایبٹ نے 42 مسز کلیرنس سے کہاکہ کم سن بچوں کے قتل کے ان تین الزامات میں آپ کو 9 مئی کو اولڈ بیلی فوجداری عدالت میں بھیجا جائے گا۔ اور 29 مئی کو ضمانت کی سماعت کی جائے گی، جبکہ اس دوران آپ کو حراست میں رکھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق، منگل کی شب جنوبی لندن کے پوش علاقے نیو مالڈین کے ایک مکان سے3 سالہ جڑواں بچے بین اور میکس اور بڑی بہن 4 سالہ اولیویا کی لاشیں ملی تھیں جن کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی تھیں۔ جبکہ، بچوں کی ماں کو پولیس نے زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا اور طبی امدادا ملنے کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کے قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا تھا۔

واقعہ کے وقت مسٹر گیری کلیرنس اپنی آٹھ سالہ بڑی بیٹی جو صحتیاب ہے اس کے ہمراہ اپنے آبائی ملک جنوبی افریقہ میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے گئے ہوئے تھے۔

پڑوسیوں نے بتایا کہ مسٹر کلیرنس کے تینوں بچے پیدائشی طور پر زنگی محدو کرنے والی لاعلاج بیماری ’اسپائنل مسکولر اسٹروفی‘ جسے 'فلوپی بی بی سیڈروم ' کہا جاتا ہے، میں مبتلا تھےجس کی وجہ سے چلنے اور بولنے کے قابل نہیں تھے۔

اسی لیےمسٹر کلیرنس نےگھر کو بچوں کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مکان کی از سر نو مرمت اور آرائش کا کام مکمل کروایا تھا اور بچوں کی سہولت کے لیے گھر میں ریمپ اور لفٹ نصب کروائی تھی۔

قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں والدین نے بچوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ مسز کلیرنس اگرچہ پیشے کے اعتبار سے گرافک ڈیزائنر رہی ہیں۔ لیکن، بچوں کی معذوری کی وجہ سے وہ مکمل طور پر بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں اگرچہ ان کی مدد کے لیے ایک جز وقتی ملازمہ موجو تھی۔ لیکن، انھیں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے 24 گھنٹے معاونت درکار رہتی تھی۔

تانیہ کی ایک سہیلی نے ذرائع کو بتایا کہ بچوں کی معذوری کی وجہ سے برسوں سے وہ ایک رات بھی سکون سے نہیں سوئی اس کے بچوں کو فیڈنگ ٹیوبس کی ضرورت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ تانیہ کو بچوں کی دیکھ بھال میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

فیملی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گیری کلیرنس کو اس سانحہ کا پتا چلنے پر شید صدمہ ہوا ہے وہ پیشے کے اعتبار سے ایک بینک میں سرمایہ کار ہیں اور زیاہ تر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں۔ تاہم، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی بیوی مشکل صورت حال سے دوچار ہے، ورنہ وہ کبھی بھی برطانیہ نہیں چھوڑتے۔
XS
SM
MD
LG