رسائی کے لنکس

مبصرین شمالی کوریا کے حالات سے آگاہی کے لیے کوشاں


مبصرین شمالی کوریا کے حالات سے آگاہی کے لیے کوشاں

مبصرین شمالی کوریا کے حالات سے آگاہی کے لیے کوشاں

’بدھ کو آنجہانی رہنما کے جلوسِ جنازہ کی قیادت وہی لوگ کر رہے تھے جنہیں 15 ماہ قبل ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کی حیثیت سے شناخت کیا گیا تھا‘

شمالی کوریا کی صورتِ حال میں دلچسپی رکھنے والے تجزیہ کار اور ادارے کمیونسٹ مملکت کے سابق سربراہ کم جونگ اِل کی آخری رسومات کی منظرِ عام پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ وہاں جاری انتقالِ اقتدار کے مراحل کا اندازہ لگایا جاسکے۔

اب تک کے تجزیے سے مبصرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آنجہانی جونگ ال کے چھوٹے صاحب زادے کم جونگ ان کو اقتدار کی منتقلی احسن طریقے سے انجام پارہی ہے۔

واشنگٹن میں قائم ادارے 'کونسل آن فارن ریلیشنز' سے منسلک سینئر تجزیہ کار اسکاٹ سینڈر کے مطابق بدھ کو آنجہانی رہنما کے جلوسِ جنازہ کی قیادت وہی لوگ کر رہے تھے جنہیں 15 ماہ قبل ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کی حیثیت سے شناخت کیا گیا تھا۔

سینڈر کا کہنا ہے کہ ان افراد کی جلوس میں موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں معاملات ٹھیک چل رہے ہیں لیکن ان کے بقول ان رہنماؤں کے درمیان ایسی پوشیدہ رقابتوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا جو آگے چل کر سامنے آئیں۔

بدھ کو سامنے آنے والی تصاویر میں کم جونگ ال کا جنازہ جس لیموزین پہ رکھا ہوا ہے اسکے آگے کے دائیں پہیے کے نزدیک آنجہانی رہنما کے صاحبزادے اورمستقبل کے حکمران کھڑے ہیں جب کہ ان کے پیچھے ان کے چچا اور نگران جینگ سونگ ٹائیک موجود ہیں۔

ان دونوں رہنماؤں کے پیچھے کھڑے اشخاص کو کم کی نام اور چو تھائی بوک کے ناموں سے شناخت کیا گیا ہے جو حکمران جماعت کے اعلیٰ ترین عہدیداران ہیں۔

گاڑی کے بائیں جانب شمالی کوریائی افواج کے چار اعلیٰ ترین افسران موجود ہیں جن میں سب سے آگے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف ری یونگ ہو ہیں۔

یونگ ہو کے پیچھے مسلح افواج کے وزیر کم یونگ چن اور ایک سینئر فوجی افسرکم جونگ گیک موجود ہیں۔ تاہم تصویر میں چوتھے شخص کا چہرہ واضح نہیں ہے۔

جنازے کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں ان میں حیرت انگیز طور پر آنجہانی رہنما کی ہمشیرہ اور جینگ سونگ ٹائیک کی اہلیہ کم کیانگ ہوئی موجود نہیں ہیں۔

کیانگ ہوئی کو حالیہ برسوں کے دوران کئی اہم ذمہ داریاں تفویض کی جاتی رہی ہیں جس کا بظاہر مقصد انہیں ملک کے مستقبل کے حکمران اور اپنے بھتیجے کا مددگار بنانا تھا۔

تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ آخری رسومات میں کیانگ ہوئی کی عدم شرکت شمالی کوریا کے ثقافتی رواج یا انتہائی سرد موسم کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

آنجہانی رہنما کے جلوسِ جنازہ میں حکمران جماعت کے عہدیداروں اور فوجی جنتا کی مساوی موجودگی کے باعث بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا میں طاقت کے مرکزی سرچشمے فی الحال بغیر کسی رکاوٹ کے اقتدار کی منتقلی یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

تاہم، سینڈر کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات پر باہمی اختلافات ابھر سکتے ہیں کہ آیا شمالی کوریا میں بھی چین کی طرز کی معاشی اصلاحات متعارف کرائی جائیں یا ملک کو بدستور آنجہانی رہنما کی پالیسی کے مطابق چلایا جائے جس میں عسکری طاقت کو اولیت حاصل ہے۔

سینڈر کا خیال ہے کہ انتقالِ اقتدار کے ساتھ ہی حکمران کمیونسٹ جماعت اور فوجی جنتا کے درمیان بھی اختیارات کی جنگ چھڑ سکتی ہے.

تاہم، واشنگٹن میں واقع ایک تھنک ٹینک 'ہیریٹیج فائونڈیشن' سے منسلک تجزیہ کار بروس کلینگر کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کے اختلافات کی مثال نہیں ملتی کیوں کہ کم جونگ ال اور ان سے قبل ان کے والد کم ال سنگ بطورِ سربراہِ مملکت تمام اداروں کے بھی سربراہ تھے۔

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اداروں کے باہمی اختلافات کا ابھرنا اور ترجیحات کا تصادم ہونا خاصا اہمیت کا حامل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG