رسائی کے لنکس

جدہ میں بحیرہٴاحمر کے کنارے ’کنگڈم ٹاور‘ کی تعمیر میں 57 لاکھ مربع فٹ کنکریٹ اور 80 ہزار ٹن اسٹیل استعمال ہوگا۔ اس میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل، رہائشی فلیٹس، مختلف دفاتر اور ایک آبزرویٹری قائم ہوگی

لگتا ہے دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ دبئی کی دنیا بھر میں ’اجارہ داری‘ کے دن گنے جا چکے ہیں، کیوں کہ سعودی شہر جدہ کے ’کنگڈم ٹاور‘ نے بلندی کی جانب اپنا سفر طے کرنا شروع کر دیا ہے۔

جدہ کے سینئر صحافی، شاہد نعیم نے ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے کو ٹاور سے متعلق مزید تفصیلات میں بتایا کہ ٹاور کی لاگت کا تخمینہ ایک ارب تئیس کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

ٹاور ایک کلومیٹر مسافت کے مساوی ہوگا جو یقینا، ’گینز بْک آف ورلڈ ریکارڈ‘ کے مطابق، اس وقت دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ دبئی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلندہوگا کیوں کہ دبئی کی عمارت کی لمبائی چھ سو فٹ ہے۔

جدہ میں بحیرہ احمر کے کنارے کنگڈم ٹاور کی تعمیر میں ستاون لاکھ مربع فٹ کنکریٹ اور اسی ہزار ٹن اسٹیل استعمال ہوگا۔ اس میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل ،رہائشی فلیٹس ، مختلف دفاتر اور ایک آبزرویٹری قائم ہوگی۔

ٹاور کی 200 منزلیں ہوں گی اور اتنی بلندی تک کنکریٹ، اسٹیل و دیگر تعمیراتی مشینری اور آلات کو پہنچانا کسی چیلنج سے کم نہ ہوگا۔

برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، برج خلیفہ کی تعمیر کے وقت بھی یہی مسئلہ درپیش تھا جس کا حل یہ نکالا گیا کہ ساٹھ لاکھ مکعب فٹ کنکریٹ کو رات کے اوقات میں ایک سنگل پمپ کے ذریعے اوپر چڑھایا جاتا تھا۔ چونکہ اُس وقت ٹمپریچر بھی کم ہوتا ہے۔ لہذا، کنگڈم ٹاور کے معاملے میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

لیکن اس کے باوجود، کنگڈم ٹاور کو تعمیر سے پہلے ہی ایک اور بڑا چیلنج درپیش ہے ۔۔۔اور وہ یہ کہ جس جگہ یہ ٹاور تعمیر کیا جا رہا ہے، وہاں سے ساحل بہت قریب ہے۔ ساحل کی دلدلی مٹی اور سمندر کے کھارے پانی کی موجودگی میں ٹاور کا ڈھانچے کس طرح کھڑا کیا جائے۔

یقیناً، آج کے جدید اور انتہائی ترقی یافتہ سائنسی دور میں، اس کا بھی کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوگا ورنہ یہ جگہ ہی کیوں چنی جاتی۔ تاہم، اس حل کے بارے میں ابھی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
XS
SM
MD
LG