رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو


سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

سعودی عرب کے ارب پتی تاجر اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ الولید بن طلال ساحلی شہر جدہ میں دنیا کا سب سے بلند ٹاور بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کی سب بڑی تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ سے 1.23 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پاچکا ہے ۔عمارت کا نام " کنگ ڈم ٹاور"ہوگا۔ اور اس کی بلندی ایک ہزار میٹر ہوگی جبکہ یہ منصوبہ صرف 5 برس کی قلیل مدت میں مکمل ہوگا۔

اگرچہ ابھی اس کا صرف ابتدائی نقشہ اور عمارت کی کمپیوٹرائزڈ تصاویر ہی تیار ہوئی ہیں لیکن اپنی لمبائی ، چوڑائی ،بلندی ، جدیدیت اور وسیع ترین سسٹم کے سبب یہ بہت حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔
سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

آسمان سے باتیں کرتے کنگ ڈم ٹاور کی تعمیر اور اس کا دلفریب ڈیزائن بنانے کا ذمہ امریکی آرکیٹیکٹ ایڈری آن اسمتھ کو دیا گیا ہے ۔ان کا تعلق ریاست شکاگو سے ہے ۔ یہ وہی 67سالہ انتہائی تجربہ کااور ماہر آرکیٹیکٹ ہیں جنہوں نے دنیا کے اس وقت تک کے بلند ترین ٹاور" برج خلیفہ "کو ڈیزائن کیا تھا۔ شہزادہ ولید کی خواہش ہے" کنگ ڈم ٹاور" جیسی کوئی اور عمارت پورے مشرق وسطیٰ میں کوئی اورنہ ہو"

"کنگ ڈم ٹاور" کی لمبائی 3000فٹ یا ایک ہزار میٹر بلند ہوگی ۔ابھی تک دنیا کی کوئی بھی عمارت اتنی بلندنہیں۔ دبئی کا برج خلیفہ 828میٹر بلند ہے جبکہ کنگ ڈم ٹاورمیں برج خلیفہ سے 50منزلیں زیادہ ہوں گی لہذا اس کی حیرت انگیز بلندی کا اندازہ لگا نا کوئی مشکل نہیں۔تعمیراتی ماہرین کے مطابق اتنی اونچائی پر ٹاور کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہر وقت تیزہواوٴں سے مقابلہ ہوگا۔اتنی بلندی پر ہوا کی رفتار ایک سو بیس میل فی گھنٹہ اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین زیر تعمیر عمارت، حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو

اس حوالے سے ایڈری آن اسمتھ کا کہنا ہے کہ ٹاور کو اس انداز میں تعمیر کیا جارہا ہے کہ ہوا عمارت کے ہر حصے میں داخل ہو کر عمارت کو بغیر نقصان پہنچائے دوسری طرف سے نکل جائے گی۔ پوری عمارت کو تین علیحدہ علیحدہ بنیادوں پر کھڑا کیا جائے گا اور عمارت اوپر سے نیچے کی طرح سلوپس کی شکل میں ہوگی۔ اس سے عمارت کے وزن اور توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

عمارت میں چار ہوٹل، مختلف اپارٹمنٹس، دفاتر اور اوپری منزلوں پر تین لابیز تعمیر ہوں گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ 157ویں منزل پر ایک آبزوریشن ڈیسک بھی بنائی جائے گی جہاں سے سیاح شہر بھر کا نظارہ آسانی سے کرسکیں گے۔ ابھی تک دنیا میں کوئی بھی آبزرویشن ڈیسک اس قدر بلندی پر موجود نہیں۔ ڈیسک کی چوڑائی 80فٹ رکھی گئی ہے ۔ اس ڈیسک کو ڈیزائن کرتے وقت یہاں ایک ہیلی کاپٹر لینڈنگ پلیٹ فارم بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا لیکن کچھ ماہر پائلٹس نے رائے دی کہ اس جگہ لینڈنگ نہایت رسکی ہوسکتی ہے لہذا ڈیزائن کے آخری مرحلے میں ہیلی کاپٹر لینڈنگ پلیٹ فارم کا آئیڈیا ترک کردیا گیا۔

سعودی عرب میں جائیداد کی خروفروخت سے وابستہ افراد کا اندازہ ہے کہ "کنگ ڈم ٹاور" میں ایک اپارٹمنٹ کی قیمت کم از کم 30لاکھ سعودی ریال یا 8 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ہوگی۔ یہ قیمت سعودی مارکیٹ کے موجودہ رجحان سے بہت زیادہ ہے۔

کنگ ڈم ٹاور کی 163منزلیں ہوں گی اور اتنی منزلوں تک پانی پہنچانے کا بے عیب منصوبہ کسی کمال سے کم نہیں ہوگا ۔ علاوہ ازیں کسی ہنگامی صورتحال میں عمارت سے انخلا کا نظام بھی کمال فن ہی ہونا چاہئے۔ لہذا پانی کی فراہمی کے لئے مختلف منزلوں پر پانی کے کئی ٹینک بنائے گئے ہیں جبکہ کسی بھی ہنگامی صورت میں عمارت سے نکلنے کے لئے ہر 20 فلور پر ایمرجنسی رومز بنائے گئے ہیں جہاں عمارت سے انخلا تک کے لئے انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے ہرممکنہ چیز دستیاب ہوگی۔ ایمرجنسی کی صورت میں عمارت سے نکلنے کے لئے خصوصی پلاننگ کے تحت ایلیویٹرز بھی نصب کئے جائیں گے ۔

عمارت کی دیواریں کنکریٹ سے تعمیر ہوں گی جبکہ ہر دیوار کی چوڑائی دو فٹ رکھی گئی ہے۔ اس طرح اگر خدانہ خواستہ عمارت میں کبھی آگ بھی لگی تو یہ پھیل نہیں سکے گی ۔پھر عمارت کو منہدم ہونے سے بچانے کے لئے محفوظ ترین نظام اپنایا جارہا ہے ۔

عمارت میں تازے پانی کو جمع کرنے کی غرض سے اولمپک گیمز میں استعمال ہونے والے واٹر پول سائز کے 14 پولز بنائے جارہے ہیں۔ گرمی میں جدہ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ ہوا کی نمی کا تناسب 80فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس قدر زیادہ گرمی میں بھی عمارت کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے "کنگ ڈم ٹاور" کی بیرونی دیواریں شیشے سے بنائی جارہی ہیں جن میں انسولیشن سسٹم بھی نصب ہوگا۔

عمارت میں 59 تیز رفتار لفٹس نصب کی جائیں گی۔ان میں سے پانچ لفٹس ڈبل ڈیک اور تین ٹرپل ڈیک ہوں گی۔ٹرپل ڈیک لفٹس دنیا میں پہلی بار اسی عمارت میں استعمال ہوں گی۔ہر لفٹ ایک سیکنڈ میں دس میٹر بلند ہوگی۔یہ رفتار انتہائی تیز شمار ہوتی ہے۔ اس رفتار سے اس بات کا بھی اندازہ لگانا آسان ہے کہ 1000میٹر بلند عمارت کی بالائی یا آخری فلور پر پہنچنے میں کتنے منٹ صرف ہوں گے۔

عمارت میں دفتری استعمال کے لئے مجموعی طور پر 54000مربع میٹر کا علاقہ مختص ہے۔ یہ علاقہ عمارت کی نچلی اور اوپری منزلوں پر مشتمل ہے جبکہ درمیان میں رہائشی اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں ۔

جدہ مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔رمضان اور حج کے مہینوں میں ہرسال یہاں کم و بیش 20لاکھ غیر ملکی آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی سارا سال لاکھوں عمرہ زائرین کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ لوگ مکہ اور مدینہ میں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد جدہ میں قیام کرنا چاہیں گے ان کے لئے اس ٹاورمیں عارضی رہائش ایک حسین تجربہ ہوگی۔

علاوہ ازیں مقامی باشندے چھٹیاں منانے کی غرض سے بھی "کنگ ڈم ٹاور" کے اپارٹمنٹس میں قیام کرسکیں گے ۔ سعودی عرب کے نیم سرد موسم میں یہاں رہنے کا اپنا ہی مزہ ہوگا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کیوں کہ بالائی منزلوں کے رہائشی جب بھی کمرے سے باہر جھانکیں گے انہیں بادل اپنے قدم چومتے محسوس ہوں گے۔ یہ خیال ہی اپنے آپ میں ایک انوکھا تصوررکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG