رسائی کے لنکس

سن 1970ء سے لیکر سن 2013ء تک کی فلموں کے رنگ ڈھنگ کئی کئی بار بدلے مگر سلور اسکرین پر پتنگ بازی کی پکچرائزیشن آج بھی جاری ہے۔

بالی وُوڈ فلم میکرز سالوں سے پتنگ بازی کو اپنی فلموں میں’رومینس کے سدا بہار فلیور‘ کے طور پر استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یعنی ادھر پتنگ کے پیچ لڑے اور ادھر ہیرو، ہیروئن کے نین۔ روایتی میلوں ٹھیلوں سے نکل کر پتنگ بازی نے سلور اسکرین پر بھی وہ رنگ جمایا ہے کہ کامیابی کا ’فنڈا‘ بن گیا۔

سن 1960ء کی دہائی میں بننے والی فلموں میں تقریباً ایک ہی طرز کی محبت کو موضوع بناکر پیش کیا جاتا تھا ۔ اس میں ’دو ہیرو، ایک ہیروئن‘ یا ’دو ہیروئن ایک ہیرو‘ میں سے کسی ایک کو اپنے پیار کی ’قربانی‘ دینا پڑتی تھی۔ یہ اس دور کا کامیاب ٹرینڈ تھا مگر 1970ء کے آتے آتے جیسے ہی زمانہ بدلا فلمی رومینس نے بھی اپنے طور طریقے بدل لئے۔ بس یہیں سے پتنگ بازی اور پتنگ بازی کے ذریعے ہیرو، ہیروئن کے نین ملنا اور محبتیں پروان چڑھنا شروع ہوئیں۔

لُطف کی بات یہ ہے کہ سن 1970ء سے لیکر سن 2013ء تک کی فلموں کے رنگ ڈھنگ کئی کئی بار بدلے مگر سلور اسکرین پر پتنگ بازی کی پکچرائزیشن آج بھی جاری ہے۔ ’دہلی 6‘ میں ابھیشیک بچن نے بھی سونم کپور کے لئے ’پیچ‘ لڑائے تو اب ’کائی پوچے‘، ’پتنگ‘ اور ’گٹو‘ جیسی نئی فلموں میں بھی ’مانجھے‘، ’سددی‘، ’چرخی‘، ’کنوں‘، ’لئی‘ اور ’بو کاٹا‘ کا ذکر سننے کو ضرور ملتا ہے۔

اس حواے سے ’ٹائمز آف انڈیا‘ بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ سترکی دہائی سے صرف 15 دن پہلے ختم ہونے والے سال تک بے شمار فلموں میں پتنگ بازی کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس سال ’فقرے‘، ’مترو کی بجلی کا منڈولا‘، ’کائی پوچے‘ اور ’یہ کھلا آسمان‘ سمیت کم از کم پانچ فلمی کہانیوں میں پتنگ کا ذکر ملتا ہے۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ ’متروکی بجلی کا منڈولا‘ کی پروموشن مہم میں بھی فلم کی ہیروئن انوشکا شرما نے بہت سے فیسٹولز میں جاکر خود پتنگیں اڑائیں۔

ایک اور بات جو یہ ہندی فلموں میں پتنگ کے رنگوں کو مزید واضح کرتی ہے وہ یہ کہ ’کائی پوچے‘ کا مطلب ہی ’بوکاٹا‘ ہوتا ہے۔

مذکورہ فلموں کے علاوہ بھی بہت سی فلمیں ایسی ہیں جو پتنگ کے ذکر سے خالی نہیں مثال کے طور پر ’کائٹس‘ (2010)، ’پتنگ‘ (2011)، ’دی کائٹ رنر‘ (2007)، ’ہم دل چکے صنم‘ (1999) اور ’کٹی پتنگ‘ (1970)۔

سر، سنگیت اور پتنگ کا ساتھ
سنجے لیلا بنسالی کی رومینٹک بلاک بسٹر ’ہم دل دے چکے صنم‘ میں سلمان خان اور ایشوریہ رائے کو رنگا رنگ پتنگیں اڑاتے ہوئے دکھایا گیا اور اُن پر باقاعدہ ایک گانا ’ڈھیل دے‘ بھی پکچرائز کیا گیا۔

بپسی سدھوا کے ناول ’آئس کینڈی مین‘ پر بنائی گئی دیپا مہتا کی فلم ’ارتھ‘ کے گانے ’رت آگئی رے‘ میں عامر خان اور نندیتا داس کو پتنگ اڑاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ گانا بھی ہٹ رہا اور فلم نے بھی اچھا بزنس کیا۔
XS
SM
MD
LG