رسائی کے لنکس

دولت اسلامیہ کے جنگجو پیر کی شب ترکی کی سرحد کے قریب شام کے علاقے ’کوبانی‘ میں داخل ہو گئے تھے اور شہر کی گلیوں میں کرد ملیشیا اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

ترکی کی سرحد کے قریب شام کے علاقے ’کوبانی‘ میں تازہ فضائی کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں اور کرد ملیشیا کے درمیان لڑائی جاری ہے اور جنگجوؤں کی مزید پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

منگل کو الصبح ہونے والی فضائی کارروائی میں کوبانی شہر باہر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیریئن آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات جھڑپوں کے بعد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر کے جنوب مغربی حصے میں کئی عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔

کوبانی پر کنٹرول کی صورت میں دولت اسلامیہ کو ترکی کی سرحد کے قریب ایک وسیع شامی علاقے پر قبضہ حاصل ہو جائے گا۔

کرد میلیشا کے ایک سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’آخری دم‘ تک جنگجوؤں کی مزاحمت کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون صورت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کا فوری مطالبہ کیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو پیر کی شب ترکی کی سرحد کے قریب شام کے علاقے ’کوبانی‘ میں داخل ہو گئے تھے اور شہر کی گلیوں میں کرد ملیشیا اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

خبررساں ادارے ’رائیڑز‘ نے شہر کا دفاع کرنے والی کرد ملیشیا کے سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو کوبانی شہر کے مشرقی حصے میں تین سو میڑ اندر تک آ گئے ہیں اور وہ قریبی عمارتوں پر گولہ باری کر رہے ہیں۔

کوبانی کو ’عین العرب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ شہر تین ہفتوں تک دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے محاصرے میں رہا۔

اس سے قبل ’دولت اسلامیہ‘ کے جنگجوؤں نے کوبانی شہر کے باہر ایک عمارت پر اپنا پرچم لہر ا دیا تھا، جس کے بعد کوبانی کے ہزاروں شہری، جس میں ایک بڑی تعداد کردوں کی ہے، اپنی جان بچانے کے لیے سرحد پار ترکی کے ایک قصبے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

اب تک لگ بھگ ایک لاکھ ساٹھ ہزار کرد شام میں پناہ کے حصول کے لیے داخل ہو چکے ہیں۔

دولت اسلامیہ جس نے شمالی عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے وہ ’کوبانی‘ پر قبضہ کر کے اپنا کنڑول مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

امریکہ اور کئی عرب ممالک کی طرف سے کی جانے والی فضائی کارروائیاں کے باوجود دولت اسلامیہ شدت پسندوں کی کوبانی کی طرف پیش قدمی باعث تشویش ہے۔

جنگجوؤں نے شہر کا تین اطراف سے محاصرہ کیا ہوا ہے۔

دوسری طرف ترکی کی کرد نواز پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی نے دولت اسلامیہ کی طرف سے ’کوبانی‘ شہر کے محاصرے کے خلاف سڑکوں پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں آباد اقلیتوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان پر مختلف قسم کے تشدد بھی کرتے رہے ہیں۔

اس شدت پسند تنظیم کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکہ نے یورپی اور عرب ممالک کے اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے ان کے خلاف گزشتہ ماہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG