رسائی کے لنکس

کوہاٹ میں کار بم دھماکےسے 20 ہلاک


ایک مقامی پولیس افسر ممتاز خان کے مطابق منہدم ہونے والے کوارٹرز کے ملبے تلے کئی افراد دبے ہوئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقے ہونے کے سبب ہلاک شدگا ن میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

خیبر پختون خواہ کے شہر کوہاٹ میں بدھ کی شام ایک طاقتور بم دھماکے میں کم ازکم بیس افراد ہلاک اور 55 سے زائد زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں کئی عورتوں اور بچوں سمیت تین پولیس والے بھی شامل ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نےرپورٹرز کو بتایا کہ وہ پاکستانی سیکیوریٹی فورسز کے خلاف کاروائی جاری رکھیں گے کیونکہ پاکستان نے امریکہ کو ڈرون حملے جاری رکھنے کہ اجازت دی ہوئی ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود کمشنر کوہاٹ خالد خان عمرزئی نے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دھماکہ پولیس ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں ملازمین کی رہائشی کالونی کے قریب ہوا اور اس کی شدت سے کم از کم 20 گھر منہدم ہو گئے ۔

انھوں نے کہا کہ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں لیکن دھماکے کے بعد بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔

صوبے کے آئی جی پولیس فیاض طورو نے کہا ہے کہ دھماکہ ایک ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے ایک کار کو اڑاکر کیا گیا۔ آئی جی کے مطابق یہ حملہ خودکش نہیں تھا۔
کمشنر کوہاٹ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔
کوہاٹ ایک فوجی چھاؤنی ہے اور یہاں پہلے بھی ایسے حملے ہوتے آئے ہیں۔ یہ شہر قبائلی علاقوں ، اورکزئی ایجنسی، کُرم ایجنسی، درہ آدم خیل اور شمالی وزیرستان جانے والے فوجی قافلوں کے لیے ایک اہم گزر گاہ ہے۔
پچھلے ایک ہفتے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی یہ چوتھی بڑی کارروائی ہے۔

گزشتہ منگل کو لاہور میں اہل تشیح کے ایک ماتمی جلوس پر یکے بعد دیگرے تین خودکش حملوں میں 35 افراد ہلا ک ہو گئے تھے جبکہ جمعہ کوکو ئٹہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی گئی ایک ریلی پر خودکش حملے میں 65 اور ایک روز قبل خیبر پختون خواہ کے شہر لکی مروت میں پولیس اسٹیشن پر کیے گئے خودکش کار بم دھماکے میں 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک مقامی پولیس افسر ممتاز خان کے مطابق منہدم ہونے والے کوارٹرز کے ملبے تلے کئی افراد دبے ہوئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقے ہونے کے سبب ہلاک شدگان میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سول انتظامیہ کے ایک مقامی اہلکار محمد عار ف کے مطابق پولیس لائن کے رہائشی علاقے میں ہونے والا دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کے بعد شہر بھر کی بجلی منقطع ہوجانے کے باعث شہر اس وقت بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں کمشنر کوہاٹ کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے پولیس لائن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس تک رسائی میں ناکامی کے بعد انہوں نے رہائشی کوارٹرز میں دھماکہ کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوہاٹ قبائلی علاقے سے ملحق ہونے کے باعث عملاً "جنگی علاقے" کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے شہر کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کاروائیاں انتظامیہ کیلیے کوئی نئی بات نہیں۔تاہم ان کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ میں کوہاٹ میں پیش آنے والا دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ایک بڑی فوجی چھائونی کی موجودگی کے حوالے سے مشہور کوہاٹ شہر صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پہ واقع ہے اور ماضی میں دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات جھیل چکا ہے۔ رواں سال اپریل کے مہینے میں دو برقع پوش خودکش حملہ آوروں نے شہرکے نواح میں مقیم قبائلی علاقے سے ہجرت کرنے والوں کے ایک کیمپ میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا ۔ واقعہ میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کاروائیاں شروع کردی ہیں۔ صحافیوں سمیت کسی بھی فرد کو جائے واقعہ کے نزدیک نہیں جانے دیا جا رہا۔

XS
SM
MD
LG