رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا اور بھارت کے درمیان جوہری تعاون پر غور


جنوبی کوریا اور بھارت کے درمیان جوہری تعاون پر غور

جنوبی کوریا اور بھارت کے درمیان جوہری تعاون پر غور


جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک بھارتی لیڈروں کے ستھ سربراہی مذکرات کے لیے اتوار کے روز بھارت پہنچ گئے ہیں۔

اُن کے ایجنڈے میں اقتصادی مسائل سرِ فہرست ہیں اور ان میں پُر امن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے تبادلے کے بارے میں ایک سمجھوتے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔اس سمجھوتے کے نتیجے میں جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو بھارت میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے کام میں شریک ہونے کا موقع مل جائے گا۔

جنوبی کوریا کی کمپنیوں نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کے لیے 20 ارب ڈالر کا ایک ٹھیکہ حاصل کیاہے۔

حالیہ برسوں جنوبی کوریا اور بھارت کے درمیان اقتصادی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔2008 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی کُل مالیت 15 ارب60 کروڑ ڈالر تھی۔

اس سال آغازکے ساتھ ہی آزاد تجارت کے اُس سمجھوتے پر عمل شروع ہوگیا ہے جسے جامع اقتصادی شراکت داری کے سمجھوتے کا نام دیا گیا ہے۔اس سمجھوتے کے تحت دونوں ملک اگلے 10برسوں کے اندر اندر ایک دوسرے کی بیشتر مصنوعات پر درآمدی محصول کو یکسر ختم کردیں گے یا اُسے کم کردیں گے۔

صدر لی 26 جنوری کو نئى دہلی میں بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG