رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کی جنگی مشقیں مکمل


جنوبی کوریا کی جنگی مشقیں مکمل

جنوبی کوریا کی جنگی مشقیں مکمل

اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی سفارت کار سوزن رائس نے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے بیشتر ارکان شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال جنوبی کوریا کے خلاف کیے گئے دو حملوں کے خلاف سخت مذمتی بیان کے حق میں تھے لیکن کئی ملک، جن میں بظاہر شمالی کوریا کا قریب ترین اتحادی چین بھی شامل تھا، اس پر متفق نہیں ہوئے۔

جنوبی کوریا نے پیر کو جزیرہ یون پیونگ کے علاقے میں گولہ باری کی مشق کی اور اس دوران شمالی کوریا کی طرف سے جارحیت کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر لڑاکا طیارے فضائی نگرانی بھی کرتے رہے۔

گذشتہ ماہ یون پیونگ میں ایسی ہی مشقوں کے موقع پر شمالی کوریا نے گولہ باری کی تھی جس سے دو شہریوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم پیر کو 94 منٹ تک جاری رہنے والی مشقوں کے دوران شمالی کوریا کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ مشق سے قبل پیونگ یانگ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے اس منصوبے پر عمل درآمد کیا تو اس کے ”تباہ کن“ نتائج سامنے آئیں گے۔

جنوبی کوریا کے حکام نے مشق کے دوران جزیرے پر موجود شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کر دی تھی۔

اُدھر امریکی مصالحت کار اور ریاست نیو میکسیکو کے گورنر بِل رچرڈسن کے ساتھ سفر کرنے والے ایک صحافی کے مطابق پیونگ یانگ نے امریکی عہدیدار کو بتایا ہے کہ وہ تناؤ میں کمی کے لیے اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کی شمالی کوریا واپسی پر رضامند ہے۔

امریکی ٹی وی سی این این کے کارسپانڈنٹ وولف بلٹزر نے کہا ہے کہ رچرڈسن کے چار روزہ دورے کے دوران شمالی کوریا نے اس کے یونگ بیون جوہری ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے جوہری ایندھن کی ملک سے منتقلی پر اتفاق کیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ پیونگ یانگ نے ایک فوجی کمیشن اور دونوں کوریائی ریاستوں اور امریکہ کے درمیان ہاٹ لائن کے قیام پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل اتوار کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس اختتام پزیر ہوا جس میں کوریائی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بیان پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی سفارت کار سوزن رائس نے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے بیشتر ارکان شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال جنوبی کوریا کے خلاف کیے گئے دو حملوں کے خلاف سخت مذمتی بیان کے حق میں تھے لیکن کئی ملک، جن میں بظاہر شمالی کوریا کا قریب ترین اتحادی چین بھی شامل تھا، اس پر متفق نہیں ہوئے۔

رواں سال ہونے والے ان حملوں کے دوران کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یون پیونگ جزیرے پر حملے سے آٹھ ماہ قبل اس علاقے کے قریب جنوبی کوریا کا ایک جنگی بحری جہاز دھماکے بعد ڈوب گیا تھا اور اس پر سوار 46 ملاح ہلاک ہو گئے تھے۔

بین الاقوامی تحقیقات کے مطابق یہ جہاز شمالی کوریا کا تارپیڈو لگنے کے بعد ڈوبا تاہم پیونگ یانگ ان نتائج کو مسترد کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG