رسائی کے لنکس

شمالی و جنوبی کوریائی حکام کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ


شمالی و جنوبی کوریائی حکام کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ
شمالی و جنوبی کوریائی حکام کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ

شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان بحرِ زرد سے متصل سرحد پر گولہ باری کے تبادلے کے ایک روز بعد دونوں ممالک کے حکام کے مابین تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے جس کےبعد جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں جنوبی کوریا کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے کہ بدھ کو ہونے والی گولہ باری کی ابتداء شمال کی جانب سے کی گئی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد کے نزدیک موجود ایک تعمیراتی منصوبے پر ہونے والے دھماکوں کے باعث جنوبی کوریا کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔

ادھر جنوبی کورین حکام نے شمال کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ شمالی کوریا نے گولے فائر کیے تھے۔ حکام کے مطابق شمالی کوریا کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ کارروائیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے جمعرات کو سیول میں صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان گولہ باری کے تبادلے نے انہیں پریشانی اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ان کے بقول اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں صورتِ حال بدستور غیر مستحکم ہے۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ گولہ باری کے تبادلے کے اس تازہ واقعہ سے ان کوششوں پر اثر نہیں پڑے گا جو شمالی کوریا کو اس کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر مذاکرات کے لیے دوبارہ آمادہ کرنے کی غرض سے کی جارہی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے بدھ کو بتایا کہ "جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے اور اب ہمیں پھر سے مرکزی مسئلہ کی جانب متوجہ ہونا ہوگا"۔

شمالی کوریا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جنوبی کوریا کی جانب سے معمول کے تعمیراتی کام کو غلطی سے بمباری سمجھ لینا "مضحکہ خیز" ہے۔

تاہم جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے شمال کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے پانچ گولے فائر کیے گئے تھے جن میں سے دو سرحد کے انتہائی قریب گرے۔ حکام کے بقول سرحد کی ایک فرنٹ لائن چوکی پر موجود اہلکاروں نے شمال کی جانب سے فائر کیے گئے کچھ گولوں کا مشاہدہ بھی کیا۔

حکام کے مطابق جنوب کی جانب سے بھی وارننگ دینے کی غرض سے جواباً کچھ گولے فائر کیے گئے جو بغیر کوئی نقصان پہنچائے سمندر میں جاگرے۔

گولہ باری کا حالیہ تبادلہ یان پیانگ نامی جزیرے کے نزدیک پیش آیا ہے جہاں گزشتہ برس نومبر میں شمالی کوریا نے حملہ کرکے چار جنوبی کوریائی باشندوں کو اس وقت ہلاک کردیا تھا جب جنوب کے فوجی اہلکار جزیرے پر ایک فوجی مشق میں مصروف تھے۔ ہلاک شدگان میں دو فوجی اور دو عام شہری شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG