رسائی کے لنکس

یہ بات فوری طور پر واضح نا ہو سکی کہ پیانگ یانگ نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق شمالی کوریا کے اس فیصلہ کی وجہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی ہونے والے مشترکہ فوجی مشقیں ہو سکتی ہیں۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اپنے شہری کینتھ بئی کی رہائی پر بات چیت کے لیے واشنگٹن کی جانب سے خصوصی ایلچی بھیجے جانے کا دعوت نامہ شمالی کوریا نے منسوخ کر دیا ہے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی وزارت خارجہ میں شمالی کوریا میں انسانی حقوق سے متعلق اُمور کے ماہر رابرٹ کنگ جلد پیانگ یانگ کا دورہ کریں گے، لیکن پیانگ یانگ سے پیغام ملا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت نے وہ دعوت نامہ واپس لے لیا ہے۔

یہ بات فوری طور پر واضح نا ہو سکی کہ پیانگ یانگ نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق شمالی کوریا کے اس فیصلہ کی وجہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی ہونے والے مشترکہ فوجی مشقیں ہو سکتی ہیں۔

پیانگ یانگ کی طرف سے جمعرات کو یہ دھمکی سامنے آئی تھی کہ اگر یہ مشقیں ہوئیں تو وہ رواں ماہ کوریا کے منقسم خاندانوں کے ملاپ کی تقریب کو منسوخ کر دے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ شمالی کوریا کے فیصلے پر ’’انتہائی مایوس‘‘ ہے۔ انھوں نے پیانگ یانگ پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی کے تحت وہ مسٹر بئی کو ’’خصوصی معافی دے کر فوری رہا‘‘ کیا جائے تاکہ امریکی شہری ہنگامی طبی امداد حاصل کر سکے۔

جمعہ کو امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ 45 سالہ بئی کو اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا۔

شمالی کوریا کی حکومت کا تحتہ الٹنے کی کوشش کے الزامات پر امریکی مبلغ کو سن 2012ء میں گرفتار کر کے 15 سال قید با مشقتکی سزا دی گئی تھی۔

مسٹر بے جنوبی کوریا میں پیدا ہوئے اور 1985ء میں اپنے والدین اور بہن کے ہمراہ امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ اپنی گرفتاری سے پہلے انہوں نے چین میں 7 سال بحیثیت مسیحی مبلغ گزارے۔
XS
SM
MD
LG