رسائی کے لنکس

25 جون 1950 میں شروع ہونے والی جنگ جزیرہ نما کوریا میں بڑے پیمانے پر تباہی اور دونوں جانب لاکھوں افراد بشمول عام شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنی تھی۔ لڑائی1953 میں ختم ہوئی اوراس میں 35 ہزار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

کوریائی جنگ کی 60 ویں برسی کے موقع پر جمعہ کو دارالحکومت سیول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر نے شمالی کوریا کے ساتھ” پرُامن “ملاپ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کا ملک اپنے کمیونسٹ حریف کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا۔

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریاکو 26 مارچ کو جنوبی کوریا کے ایک جنگی بحری جہاز ڈبونے اور اس واقعہ میں 46 افراد کی ہلاکت پر معافی مانگ کر اپنی فوجی اشتعال انگیزیوں کو ختم کرنا چاہیے تاکہ جزیرہ نما کوریا کے سات کروڑ عوام مل جل کر رہ سکیں۔

ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق جنگی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ شمالی کوریا کا اُس پر تارپیڈو سے حملہ تھا ۔ لیکن پیانگ یونگ نے اس الزام کو بار بار رد کیا ہے۔

جمعہ کو ہونے والی خصوصی تقریب میں اُن 21 ملکوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سپاہیوں نے بھی شرکت کی جنہوں نے کوریائی جنگ میں حصہ لیا تھا۔

کوریائی جنگ کی60 ویں برسی

کوریائی جنگ کی60 ویں برسی

25 جون 1950 میں شروع ہونے والی یہ جنگ جزیرہ نما کوریا میں بڑے پیمانے پر تباہی اور دونوں جانب لاکھوں افراد بشمول عام شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنی تھی۔ 1953 میں ختم ہونے والی اس جنگ میں 35 ہزار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ لڑائی کسی امن معاہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی صلح پر ختم ہو ئی تھی اس لیے شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر آج بھی حالت جنگ میں ہیں۔

جنوبی کوریا کے چیونن نامی جنگی جہاز کے ڈوبنے کے واقعے کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو ا ہے اور شمالی کوریا نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگربین الاقوامی برادری نے اُس کے خلاف تادیبی قدم اٹھایا تووہ فوجی کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔

دریں اثناء سیول میں وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے جزیرے کے مغربی ساحل کی طرف جہاز رانی نہ کرنے کی وارننگ جاری کی ہے جو 19 جون سے نافذالعمل ہے اور اتوار کو ختم ہو گی۔ تاہم وزارت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس دوران علاقے میں کسی بھی طرح کی فوجی نقل و حرکت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

شمالی کوریا نے جمعرات کو ایک بیان میں پچھلی چھ دہائیوں کے دوران مبینہ جنگ وجدل پر امریکہ سے 65 کھرب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیو ں کو بتایا کہ وہ اس مطالبے کو تبصرے کے لائق نہیں سمجھتے۔

XS
SM
MD
LG