رسائی کے لنکس

وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ترجیح ہے، پرویزخٹک


غیرضروری پروٹوکول خود لیتا ہوں نہ وزیروں کو اجازت ہے۔ نقادوں سے کہتا ہوں کہ وہ صوبے میں آکر عام لوگوں سے ہماری کارکردگی کے بارے میں پوچھیں: وزیراعلی خیبرپختونخوا کی وائس آف امریکہ سے گفتگو

پاکستان میں شورش سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تعلیم، صحت، پولیس اور محکمہ مال میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہے جو مستقبل میں اداروں کے مضبوطی کا سبب بنیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ان کی توجہ صوبےمیں ای-گورننس پر ہے اور صوبے سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ان کی ترجیح ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعلی خیبر پختونخوا نے 'وائس آف امریکہ' کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ محدود سیکیورٹی کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور ٹریفک سگنلز کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی میڈیا ان تبدیلیوں کو اہمیت نہیں دے رہا جو، ان کے بقول، وہ تعلیم، صحت، پولیس اور پٹوار کے نظام میں لے کر آئے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ صوبے میں پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کردیا گیا ہے اور تقرریاں میرٹ پر ہو رہی ہیں نہ کہ رشوت اور سفارش کی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کرپشن کے خدشات پر نہ صرف اتحادی جماعتوں کے وزرا کو فارغ کیا ہے بلکہ اپنی ہم جماعت افراد سے بھی عہدے واپس لیے ہیں۔

ایسے میں جب تحریک انصاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کے نام پر احتجاجی ریلی کرنے جا رہی ہے، اس کے نقادوں کا کہنا ہے کہ نوآموز پارٹی درحقیقت خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکی اور انقلابی تبدیلیوں کےوعدے پورے نہ کرنے کے بعد وہ عوام کی توجہ اپنی کارکردگی سے ہٹانا چاہتی ہے۔

وزیراعلی پرویز خٹک نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام سرکاری اداروں کا ریکارڈ کمپیوٹرائز ہو اور ای گورننس کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم غیرملکی دوروں میں اپنے بھائی اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلی کو ساتھ لے جاتے ہیں، اس پر ان کے بقول انہوں نے وزیراعظم کو اپنی شکایت سے آگاہ کیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایسے دوروں پر وزیراعظم کے ساتھ جائیں گے جن کے بارے میں پہلے سے صوبائی حکومت کو بتایا گیا ہو اور وہ صوبے کے لیے بہتری کے پروگرام کے ساتھ وزیراعظم کے ساتھ بیرونی دوروں پر جا سکیں۔

اس انٹرویو کی تفصیل اس آڈیو لنک میں سنیے:
XS
SM
MD
LG