رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پڑوسی ممالک سے بات کرنا ہو گی: پرویز خٹک

  • شمیم شاہد

وزیراعلیٰ پرویز خٹک

وزیراعلیٰ پرویز خٹک

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے متعلق فیصلہ کن انداز میں بات کی جانی چاہیئے۔

خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر پڑوسی ملکوں سے دو ٹوک بات کی جائے اور افغانستان کے ساتھ سرحد پر آمدورفت کے نظام کو قواعد و ضوابط کے مطابق بنایا جائے۔

چارسدہ میں دہشت گرد حملے کا نشانہ بننے والی باچاخان یونیورسٹی کے دورے کے بعد جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کے انتظامی سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مزید موثر اقدام کیے جائیں۔

چارسدہ یونیورسٹی میں حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا اور فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے زیر استعمال موبائل فون کی سمز افغانستان کی تھیں اور ایک دہشت گرد کے فون پر اس کی ہلاکت کے بعد افغانستان سے کال آرہی تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے متعلق مزید تحقیقات کے بعد ہی بتایا جائے گا کہ اس میں کون ملوث تھا۔

اُدھر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بھی کہا کہ حملے کے بعد تحقیقات جاری ہیں اور اس عمل کی تکمیل سے قبل کسی طرح کا نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہو گا۔

لیکن وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے متعلق فیصلہ کن انداز میں بات کی جانی چاہیئے۔

"افغانستان کے بارے میں کیا ہم افغان حکومت سے دو ٹوک بات نہیں کر سکتے کہ آکر بیٹھیں اور ختم کریں یہ مسئلہ یا تو آپ اپنے ملک کو قابو میں کریں ان دہشت گردوں کو روکیں یا پھر ہمیں کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ دوسرا ہم را کی بات کرتے ہیں تو کیا ہم بھارت سے دو ٹوک بات نہیں کر سکتے۔"

انھوں نے افغان سرحد سے لوگوں کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

"اس وقت طورخم کا جو راستہ ہے وہ ابھی بھی کھلا ہے بغیر پاسپورٹ کے بغیر کسی کارڈ کے لوگ آ جا رہے ہیں ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ ہم کس طرح دہشت گرد کا مقابلہ کر سکیں گے ہمارے راستے کھلے عام موجود ہیں۔"

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے طویل سرحد ہے جو کہ زیادہ تر دشوار گزار اور بیابان علاقوں سے گزرتی ہے اور ایک عرصے سے پاکستان یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ دہشت گردوں کی آزادانہ نقل وحرکت کو روکنے کے لیے افغانستان کو اپنی جانب سرحد کی نگرانی کے موثر انتظامات کرنا ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG