رسائی کے لنکس

خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں داخلے کی شرح میں اضافہ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

نئے اعدادو شمار کے مطابق صوبے میں اس وقت سرکاری اسکولوں کی تعداد 27506 ہے جو کہ اس سے قبل 28178 بتائی جاتی تھی۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے شعبہ تعلیم میں بہتری کے لیے کیے گئے مختلف اقدام کے تناظر میں اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح میں اضافے کا بتایا ہے۔

حال ہی میں سال 2015ء ۔ 2016ء کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت صوبے کے سرکاری اسکولوں میں 43 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں جو کہ گزشتہ برسوں کی نسبت ایک لاکھ 30 ہزار زیادہ تعداد ہے۔

سرکاری رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے کئی ایسے اسکولوں کو جن کا وجود صرف کاغذوں پر تھا، بند کر دیا جب کہ کسی آبادی میں مختصر فاصلے پر واقع دو اسکولوں کو ضم کرنے کے ساتھ ساتھ مکتب یعنی مساجد میں قائم ایسے اسکول جہاں طلبا کی تعداد 40 سے کم تھی انھیں بھی قریبی اسکولوں میں ضم کیا۔

نئے اعدادو شمار کے مطابق صوبے میں اس وقت سرکاری اسکولوں کی تعداد 27506 ہے جو کہ اس سے قبل 28178 بتائی جاتی تھی۔

محکمہ تعلیم کے لیے صوبائی حکومت کے خصوصی افسر نجیب اللہ خٹک نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ماضی میں اسکولوں کی تعداد، ان میں زیر تعلیم طلبا اور تدریسی عملے سے متعلق مصدقہ معلومات کا کوئی موثر نظام وضع نہیں تھا جس کی وجہ سے مصدقہ اعدادوشمار حاصل نہیں ہو سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2014ء میں آزادانہ معائنہ یونٹ کے قیام کے بعد سے اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا جس سے حاصل کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں اسکولوں میں بہتری کے اقدام کیے جاتے ہیں۔

"زیادہ مسئلہ تھا اسکول چھوڑ دینے والے بچوں کی تعداد کا تھا اس کو قابو کرنا بہت اہم تھا اس کے لیے بہت اقدام کیے۔ اسکولوں میں سہولتیں پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔فرنیچر، بجلی پانی وغیرہ تو یہ تمام عوامل دونوں طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں داخلے کی شرح میں اضافے میں بھی اور بچوں کے اسکول چھوڑ جانے کو بھی کم کرتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی اقدام کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صوبے کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار 399 تھی جب کہ اس سے قبل یہ تعداد ایک لاکھ 38 ہزار اور 33 تھی۔

ناقدین یہ کہتے آئے ہیں کہ شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم کو بڑھانے کے علاوہ اس رقم کے صحیح استعمال سے ہی اس شعبے میں بہتری آسکتی ہے۔

موجودہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ماضی کی نسبت تعلیم کے لیے سالانہ بجٹ میں مختص کی گئی رقم بڑھانے کے علاوہ تعلیم کے فروغ کے لیے مثبت اقدام کیے جس کے ثمرات اب سامنے آنا شروع ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG