رسائی کے لنکس

طالبان سے مذاکرات کا آغاز فی الفور کیا جائے: خیبر پختون خواہ حکومت

  • شیم شاہد

صوبائی وزیرِ صحت شوکت یوسفزئی نے کہا کہ طالبان سے مجوزہ مذاکرات کے متفقہ فیصلے کے بعد اس عمل میں تاخیر کے باعث سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختون خواہ میں بر سر اقتدار جماعت نے وفاقی حکومت اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان مجوزہ امن مذاکرات کا عمل بلا تاخیر شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت شوکت یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے جمعہ کو گفتگو میں کہا کہ طالبان سے مجوزہ مذاکرات کے متفقہ فیصلے کے بعد اس عمل میں تاخیر کے باعث سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں بھی وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

’’مذاکرات تو ایسا عمل ہے جو فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیئے تھا … ہم نے (وفاقی) حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سست روی کا مظاہرہ نا کرے اور فی الفور مذاکرات کیے جائیں۔ جتنا بھی یہ تاخیر کریں گے اس کا نقصان ہمارے عوام کو ہو گا۔‘‘

ادھر خیبر پختون خواہ میں گزشتہ پانچ سال حکومت کرنے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور پشاور سے رکن قومی اسمبلی غلام احمد بلور نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

’’ہمیں مارنے سے ان (طالبان) کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ... اس سے طالبان کو کچھ نہیں ملے گا الٹا ہم تباہی و بربادی کی طرف ہم جا رہے ہیں. اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیئے اور اس میں سب کو تعاون کرنا چاہیئے، دونوں طرف سے کوشش کی جائے کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔‘‘

دہشت گردی کے پر امن حل کی تلاش کی حمایت میں یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب صوبائی دارالحکومت میں حالیہ ہفتوں کے دوران خود کش حملوں سمیت بم دھماکوں کے پے در پے واقعات میں لگ بھگ 250 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔

عید الضحیٰ کے موقع پر بھی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش بم حملے میں صوبائی وزیرِ قانون اسرار اللہ گنڈاپور ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیرِ صحت شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے پولیس کی تنظیم نو کا عمل شروع کر رکھا ہے۔

’’وسائل کی کمی ہم آڑے نہیں آنے دیں گے کیوں کہ ہمیں اپنی عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، تو اس حوالے سے پولیس کے سربراہ جو بھی تجاویز دیں گے حکومت ان پر عمل درآمد کرے گی۔‘‘

شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فعال بنانے کے علاوہ خیبر پختون خواہ کو ’’ہارڈ ایریا‘‘ کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ پولیس اور دیگر محکموں سے تعلق رکھنے والے قابل افسران جو دوسرے صوبوں میں نوکری کو ترجیح دیتے ہیں اُنھیں اضافی مراعات دے کر خیبر پختون خواہ میں ہی فرائض کی انجام دہی کی طرف راغب کرنے میں مدد مل سکے۔
XS
SM
MD
LG