رسائی کے لنکس

شام میں فوجی موجودگی کا اعتراف، لڑائی میں شرکت کی تردید


روسی ترجمان

روسی ترجمان

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بقول، ’شام میں روسی فوجی ماہرین شام کو فراہم کی گئی ہتھیاروں کی رسد کی دیکھ بھال میں مدد دے رہے ہیں، جو بات بین الاقوامی قانون کے دائرے کے عین مطابق ہے‘

کریملن نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ روسی فوجی مشیر شام میں موجود ہیں تاکہ ملک کی مسلح افواج کو روس کی جانب سے روانہ کیے گئے ہتھیاروں کی دیکھ بھال کا کام کر سکیں۔ تاہم، کریملن نے دعویٰ کیا ہے کہ روس لڑائی میں ملوث نہیں۔

ماسکو میں ہونے والی ایک اخباری کانفرنس میں ایک سوال پر آیا کریملن نے اِن رپورٹوں کی تصدیق یا اِنھیں مسترد کیوں نہیں کیا جن میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجی اہل کار حکومتِ شام کی فوج کے ساتھ لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں، صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کی وزارتِ خارجہ نے پہلے ہی اِن خبروں کی تردید کر دی ہے۔

پیسکوف کے بقول، ’شام میں روسی فوجی ماہرین شام کو فراہم کی گئی ہتھیاروں کی رسد کی دیکھ بھال میں مدد دے رہے ہیں، جو بات بین الاقوامی قانون کے دائرے کے عین مطابق ہے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ شام کی فوج ہی داعش کے گروپ کی پیش رفت روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو کہا تھا کہ ایک طویل مدت سے روسی فوجی اہل کار شام میں موجود ہیں، اور اِس وقت وہ ’دہشت گردی کے انسداد کی لڑائی‘ میں روسی فوجی آلات کے استعمال کے سلسلے میں شام کی مسلح افواج کی مدد کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ ٹھیکوں کے تحت روس شام کو فوجی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت فراہم کر رہا ہے۔

رائٹرز خبر رساں ادارے نے بدھ کو لبنان کےتین باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا تھا کہ روسی افواج شام میں حکومت کی فوج کی حمایت کے سلسلے میں فوجی کارروائیوں میں شرکت کرنے لگے ہیں۔

اِس سے قبل اِسی ہفتے، ایک سینئر امریکی دفاعی اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا تھا کہ روس شام کو فوجی کھیپ کی رسد پہنچاتا رہا ہے، جن سرگرمیوں کو اُنھوں نے ’مدد نہ دینے والا‘ عمل قرار دیا۔
بدھ کے روز امریکی محکمہٴخارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وزیر خارجہ جان کیری نے اپنی ٹیلی فون کال میں روسی وزیر خارجہ کے ساتھ شام کو فوجی امداد کا معاملہ اٹھایا۔

کِربی کے بقول، ’اُنھوں نے شام میں روسی فوجی سرگرمیوں، یا اِن میں اضافے کے بارے میں اطلاعات پر اپنی تشویش کا اعادہ کیا، اور واضح کیا کہ اگر یہ درست ہیں اور اگر اِن کی تصدیق ہوتی ہے، تو اِن کے باعث تشدد میں اضافہ آئے گا، اور اِن کے نتیجے میں شام میں عدم استحکام کا ماحول مزید بگڑے گا‘۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، ایرک شلز نے بدھ کے روز اس معاملے پر اخباری نمائندوں کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

شلز کے بقول، ’ہم نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ بات کسی بھی فریق کے ضمیر کے خلاف ہوگی، جس میں روس بھی شامل ہے، کہ وہ اسد حکومت کو کسی طرح کی کوئی حمایت فراہم کریں‘۔

XS
SM
MD
LG