رسائی کے لنکس

کرغز عبوری لیڈر کےلیےسیاسی تلاطم کوئى نئى بات نہیں


عبوری لیڈر، روضہ اَتُن بائے وا

عبوری لیڈر، روضہ اَتُن بائے وا

دوبچوں کی 59 سالہ ماں نےسیاست میں قدم رکھنے سے پہلےسوویت دَور میں ماسکوسٹیٹ یونیورسٹی سےگریجویشن کی تھی

کرغزستان کی عبوری حکومت کی نئى لیڈر ،جنہوں نے پچھلے ہفتے صدر کی برطرفی کے ساتھ ہی حکومت کے اختیارات سنبھال لیے تھے، ہنگامہ خیز سیاست کی پُرانی کھلاڑی ہیں۔

پانچ سال پہلے روضہ اَتُن بائے وا اُس‘ انقلابِ لالہ’ کے کلیدی لیڈروں میں شامل تھیں، جس میں اُس وقت کے صدر عسکر آقا یف کی حکومت کا بُرج گِرا تھا۔ اور پچھلے ہفتے خوں ریز احتجاجی مظاہروں کے دوران دارالحکومت سے صدر کُرمان بیگ باقی یف کے فرار ہوجانے کے بعد، اب وسطِ ایشیا کے اس ملک کی عنانِ اقتدار اُن کے ہاتھ میں ہے۔

گذشتہ بدھ کے روز ہنگامے شروع ہونے تک مِز بائے وا پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی ایک رُکن تھیں۔وہ مسٹر باقی یف پر سب سے زیادہ اور کھل نکتہ چینی کرنے والوں میں شامل رہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ مسٹر باقی یف کی حکومت نے پچھلی انتظامیہ کی بد عنوانیوں اور استبدادی پالیسیوں کو جاری رکھا۔

دو بچوں کی 59 سالہ ماں نے سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے سوویت دَور میں ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سےگریجویشن کی تھی۔


1991 میں روس سے کرغزستان کی آزادی کے بعد سے مِز بائے وا وزیرِ خارجہ،امریکہ اور برطانیہ میں کرغزستان کی سفیر اور جارجیا کے لیے اقوامِ متحدہ کی نائب خصوصی نمائیندہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چُکی ہیں۔


2004 میں نے اُنہوں نے اُس وقت کے صدر آقایف کی حکومت کا ساتھ چھوڑدیااور وہ حزبِ اختلاف کی تحریک میں شامل ہوگئیں۔

ایک سال بعد جب مسٹر آقایف کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور کرمان بیگ باقی یف صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ایک مختصر عرصے تک قائم مقام وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے کام کیا۔ لیکن وہ پارلیمنٹ سے اس منصب کے لیے منظوری حاصل نہیں کرسکیں۔


XS
SM
MD
LG