رسائی کے لنکس

فسادات میں کرغز حکام اُزبِکوں پر حملوں میں معاونت کرتے رہے


فسادات میں کرغز حکام اُزبِکوں پر حملوں میں معاونت کرتے رہے

فسادات میں کرغز حکام اُزبِکوں پر حملوں میں معاونت کرتے رہے

انسانی حقوق کی علمبردار ایک بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ جون میں کرغزستان کے جنوبی شہروں میں ہونے والے نسلی فسادات کے دوران حکومت کے متعلقہ اداروں نے اقلیتی اُزبک برادری کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا تھا۔

پیر کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ(ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ سرکاری فوجوں کواُزبک آبادی والے علاقوں میں بھیجا گیا تھا تاکہ وہ شہریوں کو غیر مسلح کرسکیں۔ لیکن اس کے برعکس ”دانستہ یا غیر دانستہ طور پر“ وہ بلوائیوں کے حملوں کوتحفظ فراہم کرتے رہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کو قانونی مدد کے لیے وکیل سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک اوراُن پر تشدد کیا جاتا رہا۔

ایچ آر ڈبلیو نے 91 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ دو سو سے زائد ایسے کرغز اور اُزبک باشندوں سے بات چیت کرنے کے بعد تیا ر کی ہے جو نسلی فسادات کا نشانہ بنے تھے۔ اس کے علاوہ عینی شاہدین، وکلاء ، انسانی حقوق کے علمبرداروں، سرکاری عہدے داروں اور قانون نافذ کرنے والے افسران سے بھی انٹرویو کیے گئے۔

کرغز اور اقلیتی اُزبکوں کے درمیان ان نسلی فسادات میں 350 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کی سربراہ نے کہا تھا کہ اُن کے عملے کو اطلاعات ملی تھیں کہ کرغز سکیورٹی فورسز نے اُزبکوں پر تشدد اور انھیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا تھا۔

ملک میں دس اکتوبرکو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے صورت حال کو پرُامن رکھنے کے لیے جولائی میں ”آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ “نے جنوبی کرغزستان میں اپنی ایک 50 ارکان پر مشتمل پولیس فورس تعینات کی تھی۔

XS
SM
MD
LG