رسائی کے لنکس

برگیڈیئر (ر) حامد کا کہنا تھا کہ کلبھوشن ’’را کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ چاربہار میں مقیم تھا اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کراچی میں قتل و غارت گری کروا رہا تھا‘‘۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’’کلبھوشن جیونی، اوڑمارا، پسنی اور گوادر میں آزادی پسند عناصر کو اکٹھا کر رہا تھا‘‘

کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں پھانسی کا فیصلہ سنائے جانے کے اعلان کےبعد، دونوں ہمسایہ ملکوں، بھارت اور پاکستان کے درمیان مخالفانہ بیانات سامنے آئے ہیں۔

منگل کے روز ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار، برگیڈیئر حامد سعید اور بھارت کے سینئر صحافی، قمر آغا نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

برگیڈیئر (ر) حامد کا کہنا تھا کہ کلبھوشن ’’را کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ چاربہار میں مقیم تھا اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کراچی میں قتل و غارت گری کروا رہا تھا‘‘۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’’کلبھوشن جیونی، اوڑمارا، پسنی اور گوادر میں آزادی پسند عناصر کو اکٹھا کر رہا تھا‘‘۔

قمر آغا نے کہا کہ کلبھوشن کو ملنے والی سزائے موت پر بھارت نے اظہار تشویش کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کلبھوشن فوجی اہل کار ہے جو تجارت سے واسطہ رکھتا تھا، جب کو، بقول اُن کے، ’’پاکستانی فوج نے اُنھیں افغانستان سے اغوا کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ را کا ایجنٹ ہے‘‘۔

قمر آغا نے کہا کہ کلبھوشن کے خلاف باضابطہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

تفصیل سننے کے لیے، آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG