رسائی کے لنکس

'روس شمالی شام میں فوجی اڈہ تعمیر کر رہا ہے'


روسی بکتر بند گاڑیاں شامی شہر حلب میں (فائل فوٹو)

داعش کے خلاف برسر پیکار کرد ملیشیا (وائی پی جی) کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اختتام ہفتہ ماسکو کے ساتھ طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعد ہوئی ہے۔

روس نے شامی کرد جنگجو فورس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ روس شام کے شمال میں واقع ایک کرد آبادی کی اکثریت والے قصبے میں فوجی اڈہ تعمیر کر رہا ہے۔

کرد کمانڈروں کا کہنا ہے کہ روسی فورسز شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی کے لئے کرد جنگوؤں کو تربیت فراہم کریں گی۔ کرد فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت کی مدد کے لئے روسی دستے شمال مغربی قصبہ عفرین میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ تعینات کئے گئے ہیں۔

داعش کے خلاف برسر پیکار کرد ملیشیا (وائی پی جی) کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اختتام ہفتہ ماسکو کے ساتھ طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعد ہوئی ہے۔ وائی پی جی کے ایک ترجمان رادر خلیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ،" یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔"

روس کے سرکاری خبررساں ادارے سپتنک کی طرف سے اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ کی جانے والی ایک وڈیو میں روسی فوجی اور ٹینک عفرین میں نظر آتے ہیں۔

تاہم روس کے دفاعی حکام نے منگل کو کہا کہ یہ دستے اس روسی " مفاہمتی مرکز" کا حصہ ہیں جو جنگ کے شکار ملک میں متحارب فریقوں کے درمیان مقامی سطح پر عارضی جنگ بندی کے لئے معاونت فراہم کرتا ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ فوجی اڈہ قائم کرنے کا اس کو ئی ارادہ نہیں ہے۔

روس ایک طویل عرصے سے شام کے صدر بشاار الاسد کی حمایت کر رہا ہے اور وہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران بھی شامی حکومت کو مدد فراہم کرتا آ رہا ہے۔

'وائی پی جی' شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا اہم حصہ ہے جسے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم کرد عہدیداروں کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بھی فوجی تعلقات رکھنا بھی ضروری ہے۔

وائی پی جی کے ایک عہدیدار خوش بخت شاکر کا کہنا ہے کہ "(شامی تنازع ) میں روس کا کردار اہم ہے۔۔۔اس لئے ہمارے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے وائی پی جی کا روس کی ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا ایک معمول کی بات ہے۔"

شام کی کرد فورسز کی واشنگٹن اور ماسکو دونوں سے حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت پر ترکی کی تشویش میں اضافہ ہوررہا ہے۔ ترکی ’وائی پی جی‘ کو شدت پسند کردستان ورکرز پارٹی یعنی 'پی کے کے' کا ہی حصہ سمجھتا ہےجو ترکی کے جنوب میں ترکی فوسز کے خلاف برسرپیکار ہے۔

عفرین میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے ردعمل میں ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان کرتلمس نے وائی پی جی کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ ان کا ملک شمالی شام میں "دہشت گرد ریاست"کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔

کرتلمس نے انقرہ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ "روسی یہ جانتے ہیں، امریکی یہ جانتے ہیں اور دوسرے ملکوں کو بھی اس کا علم ہے۔"

امریکہ نے شمالی شام میں کرد زیر کنٹرول علاقے میں کم ازکم دو فوجی اڈے تعمیر کر رکھے ہیں جہاں کم ازکم ایک ہزار امریکی مشیر تعینات ہیں جو داعش کے خلاف لڑائی کے لئے مقامی جنگجوؤں کو شامل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

دوسری طرف تحزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرد علاقے میں روسیوں کی موجودگی کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر اور وکیل عبداللہ امام کا کہنا ہے کہ "روس شام میں (شامی) حکومت کی درخواست پر موجود ہیں ۔ عفرین شام کا حصہ ہے اور شام اقوام متحدہ کا رکن ہے اس لئے تکنیکی طور پر وہاں پر روسی فوج کی موجودگی قانونی (طور پرجائز) ہے۔"

شامی ڈیموکریٹک فورسز کز حصہ ہونے کے ناطے وائی پی جی شمالی شام میں داعش کے خلاف ایک بڑی موثر فورس کے طور پر سرگرم ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی فضائی کارروائیوں کی مدد سے یہ رقہ کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے جو داعش کا گڑھ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG