رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی: افغان پناہ گزینوں کو علاقہ چھوڑنے کا 'حکم'


افغان پناہ گزین (فائل فوٹو)

افغان پناہ گزین (فائل فوٹو)

2005ء میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم تمام پناہ گزین کیمپ ختم کر دیے گئے تھے جس کے بعد سے یہ لوگ مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر ہی زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں مقامی انتظامیہ نے افغان پناہ گزینوں کو اس علاقے سے چلے جانے کا کہتے ہوئے تین روز کی مہلت دی ہے۔

قبائلی ذرائع کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ کی طرف سے لوئر کرم کے علاقوں بگن اور بادشاہ کوٹ میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کیے جاتے رہے جب کہ یہاں ایسے پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے جن میں افغانوں کو اپنے وطن واپس جانے کا کہا گیا۔

مزید برآں مقامی لوگوں کو بھی یہ ہدایت کی گئی کہ وہ افغانوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی جگہ نہ دیں۔

یہ خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ ہی پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی طرف سے صوبے میں آباد افغان پناہ گزینوں کو فوری طور پر وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزین گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔ ان میں سے 17 لوکھ کو باقاعدہ اندراج کے بعد رواں سال کے اواخر تک پاکستان میں رہنے کی اجازت ہے جب کہ دس لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں۔

حکام اکثر منظم جرائم اور دہشت گردی کے واقعات میں ان غیر قانونی پناہ گزینوں کے ملوث ہونے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔

2005 میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم تمام پناہ گزین کیمپ ختم کر دیے گئے تھے جس کے بعد سے یہ لوگ مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر ہی زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" یہ کہہ چکا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبے کے تحت اندراج شدہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے معاہدے پر کاربند ہے۔

تاہم اکثر پناہ گزین یہ شکایت بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد ان کے لیے افغانستان واپس جانا تقریباً ناممکن ہے۔

ان لوگوں نے پاکستان میں نہ صرف مقامی آبادیوں میں اپنے بچوں کی شادیاں کر رکھی ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے یہاں سالوں سے کاروباری سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں۔

یو این ایچ سی آر بھی یہ کہہ چکا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی میں افغانستان کی صورتحال اور وہاں ان لوگوں کی دوبارہ آباد کاری جیسے مسائل درپیش ہیں جن پر کام مکمل ہونے کے بعد ہی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم افغانوں کو وطن واپسی پر باآسانی آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG