رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی میں پانی کے تنازعے پرجھڑپوں میں مزید 13 افراد ہلاک

  • شمیم شاہد

کرم ایجنسی میں پانی کے تنازعے پرجھڑپوں میں مزید 13 افراد ہلاک

کرم ایجنسی میں پانی کے تنازعے پرجھڑپوں میں مزید 13 افراد ہلاک

افغانستان کی سرحد سے ملحقہ کرم ایجنسی کے علاقے شلوزان تنگی میں متحارب مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کی صبح دوبارہ شروع ہوا ۔

قبائلی ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں میں فریقین کے لگ بھگ 13 افراد ہلاک اور متعد زخمی ہوئے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث عام لوگ علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

توری بنگش اور جاجی منگل قبائل کے درمیان زمین ، جنگل اور پانی پر پائے جانے والے تنازع کے حل کے لیے حکومت نے دونوں فریقوں کے درمیان تین سال قبل سیاحتی مقام مری میں ایک معاہدہ کرایا تھا۔ تاہم اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اس مہینے کے اوائل سے کرم ایجنسی میں ان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جس میں اب تک 25افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

متحارب شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے اکابرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پانی کے مسئلے پر پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کرائے۔

کرم ایجنسی کو دیگر علاقوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بھی آمدورفت کے لیے کافی عرصے سے بند ہے جس کے باعث لوگوں کو پشاور اور دوسرے علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG