رسائی کے لنکس

کویت: شام کے مسئلے پر کانفرنس بلانے کا اعلان


امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح

امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح

امیرِ کویت نے کہا ہے کہ مذکورہ کانفرنس کی تجویز اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے دی ہے اور اس کا انعقاد جنوری کے اواخر میں کیا جائے گا۔

خلیجی ملک کویت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں جاری سیاسی بحران کے حل میں مدد دینے کے لیے آئندہ ماہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

کانفرنس کے انعقاد کا اعلان امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے پیر کی شب بحرین میں کیا جہاں وہ خلیجی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'گلف کو آپریشن کونسل' کے سربراہی اجلاس میں شرکت کےلیے موجود ہیں۔

امیرِ کویت نے کہا ہے کہ مذکورہ کانفرنس کی تجویز اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے دی ہے اور اس کا انعقاد جنوری کے اواخر میں کیا جائے گا۔

قبل ازیں شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور 'عرب لیگ' کے نمائندہ خصوصی لخدار براہیمی نے شام میں جاری خانہ جنگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

دمشق میں پیر کو شام کے صدر بشاراالاسد سے ملاقات کے بعدصحافیوں سے گفتگو میں بین الاقوامی ایلچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے شامی صدر کے ساتھ 21 ماہ سے جاری بحران کے حل کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے تاہم انہوں نے ان طریقوں کے بارے میں وضاحت کرنے سے گریز کیا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران میں صدر اسد نے لخدار براہیمی پر واضح کیا کہ وہ قیامِ امن کی ہر اس کوشش کی حمایت کریں گے جس سے شام کی خود مختاری اور آزادی پر آنچ نہ آئے۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جانب سے شام میں قیامِ امن کے لیے مزید کوششوں سے معذرت کے بعد لخدار براہیمی نے رواں برس ستمبر میں شام کے لیے عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی کا منصب سنبھالا تھا جس کے بعد سے دمشق کایہ ان کا تیسرا دورہ تھا۔

دریں اثنا برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے شامی افواج پر اتوار کو حمص شہر میں باغیوں کے خلاف ایک مہلک گیس استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یاد رہے کہ شامی حکومت ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو ماضی میں مسلسل رد کرتی آئی ہے۔

ادھر اسد حکومت کے اہم اتحادی روس کے وزیرِ خارجہ نے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کو "سیاسی خود کشی" قرار دیا ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے یہ بیان ایک روسی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دیا جو پیر کو نشر کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG