رسائی کے لنکس

کویت: مسجد حملے کے سات ملزمان کو سزائے موت


حملے کا نشانہ بننے والی کویت سٹی کی مسجد امام صادق

حملے کا نشانہ بننے والی کویت سٹی کی مسجد امام صادق

کویتی حکام نے حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں کل 29 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی جن میں سات کویتی، پانچ سعودی، تین پاکستانی اور 13 عرب بدو شامل تھے۔

کویت کی ایک عدالت نے رواں سال جون میں شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں خود کش حملے میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہونے پر سات افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

دارالحکومت کویت سٹی کی 'امام صادق مسجد' میں 26 جون کو ایک خود کش حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جب مسجد میں دو ہزار سے زائد نمازی جمعے کی نماز ادا کر رہے تھے۔

حملے میں 26 افراد ہلاک اور 200 زائد زخمی ہوگئے تھے۔ سعودی عرب کے پڑوس میں واقع کویت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والا دہشت گردی کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔

کویتی حکام نے حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں کل 29 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی جن میں سات کویتی، پانچ سعودی، تین پاکستانی اور 13 عرب بدو شامل تھے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے منگل اپنے فیصلے میں سات ملزمان کو سزائے موت اور آٹھ دیگر ملزمان کو دو سے 15 سال تک قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد 14 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔

کویت میں ہونے والے اس حملے سے قبل سعودی عرب میں بھی دو شیعہ مساجد پر اسی نوعیت کے بم حملے ہوئے تھے۔

ان تینوں حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک ایک مقامی دہشت گرد گروہ نے قبول کی تھی۔

کویتی حکام نے کہا تھا کہ حملے کا مقصد کویت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور سنی اکثریت اور شیعہ اقلیت کے درمیان اختلافات اور کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت میں شیعہ آبادی کا تناسب 15 سے 30 فی صد ہے لیکن خطے کے دیگر ملکوں کے برعکس کویتی معاشرے میں سنی اور شیعہ کی تفریق تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور دونوں مسالک کے ماننے والوں کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں۔

XS
SM
MD
LG