رسائی کے لنکس

مظاہرین اصلاحات کو ’یوکرین کے مفاد کے خلاف‘ قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِن آئینی تبدیلیوں سے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے کنٹرول کو ایک مؤثر قانونی حیثیت مل جائے گی، ایسے میں جب باغی خود کہہ رہے ہیں کہ یہ ترامیم اُنھیں نیم خودمختار حیثیت نہیں دیتیں، جس کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں

یوکرین کے دارالحکومت، کئیف میں پیر کے روز مشرقی یوکرین میں روس کے حامی باغیوں کی مزید خودمختاری کے مطالبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن کے دوران گولی لگنے سے سکیورٹی کا ایک اہل کار ہلاک جب کہ درجنوں مظاہرین اور پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔

مظاہرین جو زیادہ تر پُرامن تھے، ہاتھوں میں پرچم اٹھا رکھے تھے اور یہ احتجاج پارلیمان کی عمارت کے سامنے سے شروع ہوا، جس سے قبل قانون سازوں نے مغرب کی جانب سے کیے گئے مطالبے پر مبنی ابتدائی تجاویز کی منظوری دی، جن کا مقصد یہ ہے کہ کشیدہ مشرقی علاقے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔

دھماکے کے نتیجے میں گلی کوچوں میں موجود متعدد افراد متاثر ہوئے، جن میں سے زیادہ تر خون سے لت پت ہوئے۔

پولیس اور مظاہرین دونوں نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل گارڈ جن کی عمر 25 برس تھی اُنھیں سینے پر گولی لگی جو ہلاکت خیز ثابت ہوئی، اور اسپتال کے آپریشن روم پہنچنے سے قبل دم توڑ گئے۔ وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ مظاہرین کے ایک گروپ کی طرف سے پھینکا گیا آتشیں مواد پھٹا جس سے قانون کا نفاذ کرنے والے تقریباً 100 اہل کار ہلاک ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

امن منصوبہ، جس کی اِس برس کے اوائل سے مغربی ملک حمایت کر رہے ہیں، اس میں یوکرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک ’مرکزیت‘ ختم کرنے کی پالیسی اپنائیں۔

ساڑھے چار سو نشستوں والے پارلیمان میں 265 قانون سازوں نے صدر پیترو پوروشنکو کی جانب سے چاہی گئی ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے بعد اب منگل کو اس پر حتمی ووٹنگ ہوگی۔

مظاہرین اصلاحات کو ’یوکرین کے مفاد کے خلاف‘ قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِن آئینی تبدیلیوں سے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے کنٹرول کو ایک مؤثر قانونی حیثیت مل جائے گی، ایسے میں جب باغی خود کہہ رہے ہیں کہ یہ ترامیم اُنھیں نیم خودمختار حیثیت نہیں دیتیں، جس کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے ایک کتبہ اٹھا رکھا تھا جس میں مسٹر پوروشنکو کو وہ دِن یاد دلایا گیا جب وہ ایک کُلفی بنانے والی کمپنی کے مالک ہوا کرتے تھے۔ احتجاجی نعرے میں لکھا تھا: ’پوروشنکو، ملک کُلفی نہیں، جسے توڑ کر دونوں فریق کو خوش کیا جائے‘۔

XS
SM
MD
LG